65

اےمسیحا کیا مرا درد لادواہے


نصرت جبین ملک

یہ ان دنوں کی بات ہے جب 2015 کا سیلاب پورے زور پر تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی مچا رہا تھا ان دنو ں ٹی وی سکرین پر جتوئی ضلع مظفر گڑھ کی ایک عورت نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یہ الفاظ کہے تھے کہ اے اللہ اب دنیا سے بھلائی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور یہ حکمران بھی ہمارا درد محسوس نہیں کر رہے تو آسمان سے کوئی مسیحا بھیج جو ہمیں ان مشکلات سے نکالے،اس عورت کی آواز میں ایک ایسا درد تھا کہ مجھے اس کی شکل یاد نہیں مگر الفاظ لفظ بہ لفظ یاد رہ گئے.
مجھے یاد ہے  جب میں چھوٹی سی ہوا کرتی تھی تو ایک مرتبہ میں اورغفور بابا گاؤں میں سیم زدہ زمینوں سے گھری اونچی سڑک پر کھڑے تھے۔وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کی جوانی کے دور میں یہاں ہریالی ہی ہریالی ہوتی تھی ہر طرف چنا،گندم،جوار ،باجرا اور تربوز ہوا کرتے تھے۔ان کی بات سن کر میں نے سوال کیا کہ بابا وہ سب اب کیوں نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گریٹر تھل کینال جب بنائی گئی تو ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اس کا پانی ان زمینوں میں رس رس کر انہیں بنجر کرتا رہا اور آج وہ حسن نام کو بھی نہیں رہا۔ ” اچھا بابا ” میرے چہرے سے خوشی جاتی رہی تھی ” بابا تو وہ ہریالی پھر سے کب واپس آئے گی،میں بھی آپ کی طرح یہاں وہ سب دیکھنا چاہتی ہوں “میری اس بات پر انہوں نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا تھا اور ان کے اس قہقہہ  کے ساتھ ان کے الفاظ کی گونج سے میرے کان آج بھی مانوس ہیں وہ بولے ” پتر مین نہ پاکستان کا صدر ہوں  نہ تو کسی گورنر کی اولاد ہے جو ہماری یہ خواہش فوری پوری ہو جائے،ہاں مگر جس دن پاکستان کے دکھ کو محسوس کرنے والا کوئی مسیحا آگیا تووہ اس مسلے کا بھی حل نکال کر ہماری یہ خواہش ضرور پوری کرے گا” …..یعنی یہاں بھی وہی مسیحا۔
پھر جوں جوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقل نے پر پھیلائے،زمانے کے اتار چڑھاوء دیکھے،لوگوں کے سیاہ و سفید نصیب اور چہروں کو جاناتو معلوم ہوا کہ مسیحا آتے ہیں ضرور آتے ہیں لیکن ان مسیحاوں کا بھی ایک معیار ہوتا ہے،وہ بھی میرٹ دیکھ کر کام کرتے ہیں اور وہ میرٹ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا ہے اس میں دولت اور اونچے مقام کے نمبر لگتے ہیں۔ ایسے مسیحا بین الاقوامی اور قومی شہرت کے حامل لٹیروں ،وڈیروں پس پردہ ارب پتی اور بظاہر کنگلوں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے آتے ہیں جب یہ آتے ہیں تونظام بدل جاتے ہیں، اصول و قوانین وقتی نیند سوجاتے ہیں،تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ایسے ہی کئی مسیحا اس وقت آئے جب ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دی جانی تھی،ہر طرف عالمی سطح پرمعافی کی درخواست کی جانے لگی،ضیا حکومت پر شدید قسم کا دباوء ڈالا گیاانہیں خبر تھی کہ اگر بھٹو صاحب پھانسی گھاٹ سے زندہ پلٹ آئے تو ان کی عوامی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہو گی اور ایسا ان کی حکومت کے لئے موت ثابت ہو گا۔ضیا صاحب کو کسی مدبر نے یہ بھی کہا کہ  بھٹو اور ضیا دو آدمی ہیں اور ایک قبر ہے بحرحال ان دونوں میں سے ایک تو ہر صورت موجودہ حالات کے مطابق قبر میں جائے گا چنانچہ ضیا صاحب اپنے دوٹوک موقف پر ڈٹے رہے اور انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچا کر دم لیا۔ مسیحاوءں کی کار گزاری اس وقت بھی کام آئی جب مشرف دور میں نواز شریف جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے مشرف مطمئن کہ اپنے سب سے بڑے حریف پر ان کی گرفت مضبوط ہے مگر یہ انکی خام خیالی ثابت ہوئی اور ایک رات سعودی شاہی خاندان کی مسیحائی کی وجہ تمام حدود توڑ کر سعودی عرب پہنچا دیے گئے، بے نظیر کا طویل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن آمد بھی کچھ زخموں پر مرھم رکھنے والوں کا شاخصانہ تھی جنہوں نے انہیں یہ بھی یقین دلایا تھا کہ آئندہ پاکستان کی وزیر اعظم بھی وہی ہوں گی۔وہ پورے جوش وخروش سےآئیں مگر یہاں بھی بدقسمتی آڑے آ گئی اور وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں کسی اندھی گولی کا شکار ہو گئیں۔ بھٹو خاندان اس معاملے میں بڑا بدنصیب ہے کہ اسے مسیحائی راس نہیں آتی ۔اب مشرف صاحب کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنا دی گئ ہے۔ واقعی عدالت کے سینے میں دل نہیں ہوتا وہ صرف حقائق اور دلائل کی راہ دیکھتی ہےخواہ اس کے فیصلے کے بعد مجنوں صحراوں میں راستہ بھٹک جائے یا منزل پر پہنچ جائے اسے اس سے کوئئ عرض نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مکا بنا کر فضا میں لہرانے والے اور وردی کو کھال قرار دینے والے مشرف صاحب کے لئے کوئی مسیحا کس راہ سے نکلتا ہے یا نہیں۔
نجانے میری مڈل کلاسیئے والی سوچ ان سے بھی ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے۔ اس معاملے میں میری سوچ دوراہے پہ آ کھڑی ہوئی ہے۔ میں ایک طرف قانون اور انصاف کی بالادستی کی حامی ہوں تو دوسری طرف پرویز مشرف کی بیماری،بڑھتی ہوئی عمر اورپاکستان کے مفاد میں ان کے کئے گئے کئی اہم اور دوٹوک فیصلوں کی وجہ سے ان کے لئے دل میں نرم گوشہ بھی رکھتی ہوں۔ پرویز مشرف اور ان کی فیملی بھی اب درد کی دوا کے ساتھ مسیحا کی تلاش بھی کریں۔ اس سے پاکستانی عوام اور ان کے نصیب پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گاکہ وہ نسلوں سے اعلے حکام کے لئے مسیحائی کا یہ کھیل دیکھتے آ رہے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ مسیحائی کے اس کھیل میں ان کا کردار صرف تماشائی کا سا ہے۔ ان کے اپنے مقدر میں درد کی کوئی دوا موجود نہیں ہے صرف ٹیسیں ہیں وہ نورےاور گامے کے معمولی کرداروں کو مسائل سے نکالنے اور ان پر زندگی آسان کرنے میں بھلا وقت ضائع  کیوں کریں گے کہ اس سے نہ کوئی میڈیا کی بڑی خبر بنے گی نہ ہی ان کے لئے واہ واہ ہوگی۔ یہ لوگ توفقط اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں قومی سطح پر ان کا کیا کردار ہےاور انہوں نے نہ زندگی میں آسانیاں دیکھی ہیں اور نہ ہی انہیں ان کے ذائقے سے آگاہی ہے سو ہر قسم کے حالات میں یہ جینے کا سلیقہ جانتے ہیں ۔یہ خراب حالات کے شکنجے میں جکڑے ہوں یا کسی جرم انہیں حوالات کی ہوا کھانی پڑے  نہ تو ان کے پلیٹلس کم یا زیادہ ہوں گے نہ انہیں انجائینا کی تکلیف ہوگی،تبھی جو بھی حکومت آئے وہ اس” پتھر کی سل” کو سرکانے پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ گاؤں والے رحمو بابا تو اب اس دنیا میں نہیں رھے مگر ان کے درد کی ایک ٹیس سیم زدہ بنجر زمینوں کی صورت میں میرے سامنے ہے مگر میں مسیحا کی آمد کی خواہش سے دستبردار ہو چکی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میری امیدوں اور حسرتوں کا وجود
عوامی ہے اور اسے جس باٹ میں تولا جائے کم وزن ہی رہے گا۔

ضروری نوٹ: تحریر میں شامل خیالات لکھاری کی ذاتی رائے ہیں۔ ادارہء راولپنڈی ٹائمز کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں