58

قربانی و آزادی کے معنی شہداء کے ورثاء جانتے ہیں

تحریر: حفصہ عباسی

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ قربانی کے معنی ہمیں نہیں معلوم ۔ اور بسا اوقات یہ بھی توجیح پیش کی جاتی ہے کہ نئی نسل کو بھلا کیا معلوم کہ آزادی کی قدر و قیمت کیا ہے۔ لیکن ہم ایسا کہتے ہوئے ہزاروں لاکھوں شہداء کے اُن ورثا کو بھول جاتے ہیں جو آج بھی قربانی اور آزادی کے معنی عملی صورت میں نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا حصہ ہیں جو باوقار انداز میں زندگی جی رہے ہیں۔ شہداء کی میراث اپنائے ہوئے پاکستان کی ترقی میں نہ صرف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
راقم الحروف سے بھی ایک سوال ہوا جس کا جواب قارئین سے بھی شئیر کرنے کا دل ہے۔

اس نے پوچھا آزادی کے معنی جب کہ میرے خون میں شامل تھا شہید کا لہو۔
آج کسی نے پوچھا آپ کبھی اچھی لکھاری ہوا کرتی تھیں۔ پاکستان کی آزادی پہ کچھ نہیں لکھا کیا آپ کو قربانیاں نہین یاد جو آزادی کے لیے دی گئیں؟
میں صرف نم آنکھوں سے مسکراتی ہوں۔ اسے بتا نہین سکتی کہ آپ نے تو صرف کتابوں میں قربانی کا پڑھا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بابا کا نا دکھائی دینے والا جسد خاکی سبز ہلالی پرچم میں دیکھا تو میرا شور عرش ہلا رہا تھا۔
کسی کے بابا گئے ہوں ڈیوٹی پہ اور واپس نا دکھائی دینے والا جسم آیا ہو۔ ایسا میں نے کسی کہانی میں پڑھا تھا پوری زندگی۔ لوگوں کے لیے یہ عام سی بات ہوتی ہے جب کوئی شہید کے بارے میں سنتا ہے۔ مگر جس بیٹی کے بابا گئے ہوتے ہیں اس کے لیے صبر کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔  اللہ کی رضا تھی یہ۔ لیکن جب سبز ہلالی پرچک یاد آتا ہے تو نہ جانے کیوں قربانی کا مطلب سمجھ آنا شروع ہو جاتا ہے کہ جیسے “ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں”۔ پاکستان حاصل کرنے کے لیے ہی صرف قربانی نہیں دی گئی تھی بلکہ اس کو آگے لے جانے اور دنیا میں اپنا آپ منوانے لیے بھی ہر روز قربانی دینا ہو گی۔
اس ملک کو ملک کے اندر ہی اندر رہنے والے دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قربانیاں مسلسل دینا ہوں گی۔ کبھی اپنے پیاروں کی کبھی اختیارات کی، کبھی اپنی جان کی قربانی۔
سنو تم نے تاریخ پاکستان میں قربانی پڑھی تھی، میں ہر روز قربانی دیتی ہوں۔ اپنے بابا کے پیار کی۔ ان کے لاڈ کی۔ ان کی دی گئی آسائشوں کی۔ اپنے ناز نخرے کی جو ایک بیٹی بابا سے اٹھوایا کرتی تھی۔ ہر قربانی، ہر روز۔
سنو لوگ زندہ انسانوں کو کچل رہے ہیں۔ میرے بابا نے تو بے زباں درختوں کے لیے اپنی جان دی ہے۔ ایک افسر ہوتے ہوئے بھی کہ آسانی سے اپنے ماتحتوں کو حکم بھی دے سکتے تھے، لیکن خود آگے بڑھے۔ میں ایک ایسے افسر کی بیٹی ہوں جو ملک پہ قربان ہو گئے۔ جو جنگل کی آگ میں درختوں کو بچاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اور مجھے قربانی کا نہیں پتا؟

مجھے اپنے بابا کا نا دکھائی دینے والا چہرہ جب جب یاد آتا اس پہ پاکستان کا پرچم جب جب یاد آتا مجھے قربانی اور آزادی کی سمجھ آتی ہے۔

جو لڑ گئےاندھیروں سے اجالوں کے لیے
ارض وطن ان کی نسلیں بھی تیرے لیے قربان

نوٹ: کالم میں بیان کیے گئے خیالات خالصتاً لکھاری کی ذاتی رائے ہیں۔ ادارہ راولپنڈی ٹائمز کا ان خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں