92

عراق میں ایران مخالف مظاہروں میں شدت ایرانی مذہبی راہنماوں کی تصاویر پر جوتے برسائے گئے جس کا عراق میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا

عراق میں ایران مخالف عوامی غصہ: بڑے بڑے ’ممنوعہ شجر‘ گر گئے

عراق میں طاقت ور مشرقی ہمسایہ ملک ایران کے قونصل خانوں کے نذر آتش کیے جانے کے بعد عوامی غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اس عوامی احتجاجی لہر کے دوران بڑے بڑے ’ممنوعہ شجر‘ گرا دیے گئے اور ملک میں مزید خونریزی کا بھی خدشہ ہے۔
عراقی دارالحکومت بغداد سے جمعہ انتیس نومبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق ایران عراق کی طرح شیعہ اکثریتی آبادی والا ملک ہے اور عراق میں نہ صرف شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس کئی مذہبی مقامات ہیں بلکہ عراق میں ایرانی اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے۔

تاہم عراق میں ایران مخالف عوامی مظاہروں کے دوران مقامی شہریوں کی طرف سے ایرانی سفارتی مراکز کو آگ لگا دینے کے واقعات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک بہت بڑی پیش رفت تھی کہ ایران کی کئی اعلیٰ ترین شخصیات اور رہنماؤں کی تصاویر کو مظاہرین نے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا اور ان پر جوتے برسائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں