30

نوٹیفیکیشن معطلی، دیسی لبرل، سستے دانشور

راولپنڈی ٹائمز (شاہد کاظمی سے) آرمی چیف کو چھ ماہ کی عبوری توسیع مل چکی ہے۔ لیکن اس حوالے سے ایک نئی بحث کا بھی آغاز ہوا ہے۔ کہ آیا سپریم کورٹ نے یہ کیس سن کے درست فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے اہم یہ ہے کہ پارلیمان یقینی طور پر قانون سازی کا مرکز ہے لیکن آئینی تشریحات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم کردار ہے۔ اور اس توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ نے توسیع فرمان میں موجود ابہام ہی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پہ کچھ عناصر نہ جانے کیوں جشن منانے لگ گئے کہ اداروں کے درمیان خدا نخواستہ محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ حالانکہ یہ پورا معاملہ تو جمہوریت کو تقویت دے رہا ہے۔ اور حکومت نے موثر دلائل بھی دیے۔
اس حوالے سے مزید اس ویڈیو میں جانیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں