121

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی

چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب کہاں ہیں؟ ساتھی وکلا نے کہا کہ راہی صاحب کھانا کھانے گئے تھے۔عدالت نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا۔ حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع چیلنج ہوئی۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی۔ انہوں نے کاہا کہ حکومت ایک سے دوسری پوزیشن لیتی رہی۔ تین دن میں حکومت نے بہت سی پوزیشنز تبدیل کیں۔

ہم نے آرمی ایکٹ 1952 اوررول 1954 کا بھی جائزہ لیا۔آج مختصر فیصلہ سنا رہے ہیں۔ جس کے بعد عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جس پر آج عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو ہمیں ”را” اور ”سی آئی اے” کا ایجنٹ کہا گیا۔ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دیا گیا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف دیا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اُٹھایا گیا۔ اٹارنی جنرل کی اس دلیل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ سوال پوچھنا ہمارا حق ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئے کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی مرتبہ آرمی قوانین پڑھے ہوں گے۔آپ تجویز کریں کہ آرمی ایکٹ کو کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ آپ نے پہلی مرتبہ کوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں ، جو چیز آئین وقانون کے مطابق ہو توہمارےہاتھ بھی بندھ جاتےہیں، لیکن سمری میں سپریم کورٹ کا ریفرنس ہمیں نہیں چاہیے، معاملے میں جوبات کھٹک رہی ہےوہ 3 سال کی مدت ہے، آئین کے آرٹیکل 243 میں ایسا کچھ نہیں لکھا ہے ، آج ہم نے توسیع کردی تو 3 سال کی مدت پرمہرلگ جائے گی۔سپریم کورٹ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مشروط منظوری بھی دی اور فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل کو چار نکات پر مشتمل بیان بھی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سمری سے عدالت کا ذکر ختم کیا جائے، سمری میں مدت ملازمت کا تعین ختم کیا جائے، تنخواہ اور مراعات کے حوالے سےتصحیح کی جائے اور ماہ میں پارلیمنٹ سےقانون سازی کی یقین دہانی کروائی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں