79

پروفیسر جاوید اقبال کی یاد میں تعزیتی ریفرنس ۔

پاکستان کے مایہ ناز صحافی ، ادیب اور استاد پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کی یاد میں سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک تعزیت ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں الریاض میں موجود پاکستانی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت کے فرائض ممتاز صحافی اور اینکرپرسن ملک ندیم شیر نے ادا کئے اور اپنے خطاب میں پروفیسر جاوید اقبال مرحوم کی صحافتی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ پروفیسر جاوید اقبال بیک وقت استاد، محقق، صحافی اور اعلی درجے کے کالم نگار تھے، وہ 40 سال تک مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے جاوید اقبال مرحوم سچے پاکستانی تھے اور ان کا دل پاکستان کیلئے دھڑکتا تھا،
ملک ندیم شیر کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر جاوید اقبال نا صرف علم و ادب بلکہ تاریخ کا ایک سمندر تھے۔ پروفیسر جاوید اقبال مرحوم ایک عظیم انسان اور اعلی ظرف کے مالک محسن استادوں کی طرح تھے ۔ جو ہمیشہ صحافیوں کی اصلاح اور رہنمائ کرتے تھے۔ پروفیسر جاوید اقبال مرحوم کی صحافتی اور علم و ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

اس موقع پر سینئر صحافی تسلیم امجد نے جاوید اقبال کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جبکہ نوجوان شاعر وقار نسیم وامق نے اپنے خوبصورت اشعار سے جاوید اقبال مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، تقریب سے ابرار تنولی، جہانزیب امجد ، الیاس رحیم ۔ عابد شمعون چاند ، خرم خان ، وسیم خان ، بابر ملک ، ملک کامران ، رانا عظیم سمیت دیگر صحافیوں نے پروفیسر جاوید اقبال مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اقبال مرحوم کی وفات یقیناً صحافت اور ادبی میدان میں ایک بڑا نقصان ہے جس کا خلاء کبھی بھرا نہیں جاسکتا۔ صحافیوں کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر جاوید اقبال مرحوم ایک محب الوطن پاکستانی تھے جن کے کالموں میں پاکستان کے مسائل کا اکثر زکر رہتا تھا ۔ جاوید اقبال علامہ اقبال سے انتہائ عقیدت رکھتے تھے اور انکی کوشش ہوتی تھی اقبال کے فلسفے اور پیغام کو عام کیا جاسکے۔ حکومت پاکستان کا جاوید اقبال مرحوم کے لیے ستارہ امتیاز کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ جاوید اقبال پائے کے صحافی اور ادیب تھے۔
اس سے قبل تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظ شعیب کھٹانہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کیا سعادت عابد شمعون چاند نے کی جبکہ تقریب کے نظامت کے فرائض وقار نسیم وامق نے انجام دیئے۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر جاوید اقبال مرحوم کے ایثال ثواب اور مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں