142

تخیل ادبی فورم اور یونایٹڈ میڈیا فورم کی سرپرستی میں سعودی عرب کے درالحکومت ریاض میں یوم اقبال کی شاندار تقریب

اسے اقبال کہتے ہیں، زوال اس کو نہیں آتا

تخیل ادبی فورم اور یونایٹڈ میڈیا فورم کی سرپرستی میں سعودی عرب کے درالحکومت ریاض میں علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں مورخہ ۱۴ نومبر ۲۰۱۸، بروز جمعرات، محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت عالمی اردو مرکز (فرع ریاض) کے صدر شوکت جمال نے کی ۔ تخیل ادبی فورم کے میڈیا سیکریٹری کامران ملک مہمانِ خصوصی اور تخیل ادبی فورم کے پیٹرن ان چیف منصور محبوب چوہدری مہمان اعزاز تھے ۔ نظامت کے فرائض تخیل ادبی فورم کے جنرل سیکریٹری یوسف علی یوسف نے انجام دیے ۔ محفلِ مشاعرہ کا اہتمام ڈاکٹر ندیم بھٹی کے دولت کدہ پہ کیا گیا اور محفل سے قبل تمام مہمانوں کو عشائیہ دیا گیا ۔

علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں مورخہ ۱۴ نومبر ۲۰۱۸، بروز جمعرات، محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت عالمی اردو مرکز (فرع ریاض) کے صدر شوکت جمال نے کی ۔ تخیل ادبی فورم کے میڈیا سیکریٹری کامران ملک مہمانِ خصوصی اور تخیل ادبی فورم کے پیٹرن ان چیف منصور محبوب چوہدری مہمان اعزاز تھے ۔ نظامت کے فرائض تخیل ادبی فورم کے جنرل سیکریٹری یوسف علی یوسف نے انجام دیے ۔ محفلِ مشاعرہ کا اہتمام ڈاکٹر ندیم بھٹی کے دولت کدہ پہ کیا گیا اور محفل سے قبل تمام مہمانوں کو عشائیہ دیا گیا ۔

محفل کے آغاز میں ریاض کے معروف صحافی عرفان کٹانہ نے تلاوتِ قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پیش کی ۔ جس کے بعد شعراءکرام نے اپنا کلام پیش کیا ۔

مختارِ شمعِ محفل یوسف علی یوسف نے اپنے تازہ کلام سناتے ہوئے سامعین کو دلوں کا تازگی بخشی ۔ کہتے ہیں ۔

سرِ آب جو ہے، سراب ہے، جو درون ہے، وہ جنون ہے
ذرا غور کر جو لہر لہر، یہ سکون ہے، وہ جنون ہے

مرے قاتلا تری تیغ نے، جو کیا وہ عین جبر تھا
سرِ فرشِ مقتلِ وقت جو، مرا خون ہے، وہ جنون ہے

شہرِ ریاض میں اردو ادب کا ابھرتا ہوا ستارہ شہباز صادق نے اپنے بے ساختہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور علامہ محمد اقبال کی نذر ایک غزل کی جس کے کچھ اشعار ہیں :

وہ جس کا سلسلہ اقبال ہوگا
اسی کا منفرد اک حال ہوگا

ہزاروں سال بھی گزریں گے لیکن
وہ کل بھی تھا، وہ ہر ایک سال ہوگا

دورِ حاضر کے ایک پختہ شاعر فیصل اکرم حال ہی میں ریاض منتقل ہوئے ہیں اور شاعری میں اپنا ایک اعلٰی مقام اور منفرد انداز رکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں:

بن کے بحرِ خفیف بیٹھا ہے
دیکھو کتنا لطیف بیٹھا ہے

ہائے وہ مجھ کو مار ڈالے گا
آئینے میں حریف بیٹھا ہے

کینڈا سے تشریف لائے، مایہ ناز شاعر رانا سبحان اشرف نے اپنے اچھوتے کلام سے سامعین کے دلوں میں محبتوں کے دیے جلائے ۔ فرماتے ہیں:

ہم اپنی ہر غزل میں ان کو ہی تحریر کرتے ہیں
مصّور شاعری کے ہیں، انھیں تصویر کرتے ہیں

خوشی کو ڈھونڈتے ہیں تم کو ہر پل دھان کرنے کو
تمھاری ذات سے اس کو سدا تعبیر کرتے ہیں

ریاض کی محفلوں کی جان اور ہر دلعزیز شاعر، تخیل ادبی فورم کے سیکریٹری اطلاعات و نشریات شاہد خیالوی نے حسب معمول محفل کو گرما کر اسے عروج بخشا ۔ فرماتے ہیں:

لگا ہے دل پہ جو گاؤ اسے بھرنے نہیں دیتیں
ترے ملنے کی امیدیں مجھے مرنے نہیں دیتیں

دباتا ہوں بدن کی شورشوں کو پوری طاقت سے
مجھے شاہد، مرے اندر قدم دھرنے نہیں دیتیں

تخیل ادبی فورم کے صدر محمد صابر، جدید لہجے کے شاعر، اردو ادب کی زمیں پر ابھرتا ہوا آفتاب، نے اپنے کلام سے سامعین کو عالمِ وجد کی سیر کرائی ۔ فرماتے ہیں

مطمئن ہو کہ مجھے چھوڑ کے اتنا خوش ہے
وہ جسے دیکھ کے لگتا ہے کہ بچہ خوش ہے

کتنا خوش ہے وہ محبت سے رہائی پا کر
جب سے روٹھا ہے ضرورت سے زیادہ خوش ہے

شہرِ ریاض میں عرصے دراز سے مقیم اور ادبی محفلوں کی جان، سلیم کاوش نے محفل کو ایک اور نکتۂ عروج عطا کیا ۔ فرماتے ہیں

مجھ پر انا کے جرم کی تعزیر کیا لگی
دنیا نے میری موت کا سامان کردیا

میں کیا ہوں یہی سوچ رہا تھا کہ وقت نے
مجھ کو غمِ حیات کا عنوان کر دیا

اردو نظم کے سہیل اور تخیل ادبی فورم کے سینئر مشیر صدف فریدی نے محفل کو مزید عروج بخشا اور ایک شاندار نظم بعنوان سخن پردازِ مشرق، علامہ محمد اقبال کی نذر کی ۔ نظم کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:

محبت، فلسفے کے روبرو تھی
جلالِ عشق تھا اور آگ۔۔۔
شعلوں میں ڈھلی تھی
۔۔۔
سخن پردازِ مشرق۔۔۔!
گرچہ ہم اب میں نہیں ہے
مگر وہ آج بھی دھڑکنوں میں
اسے اقبال کہتے ہیں۔۔۔
زوال اس کو نہیں آتا۔۔۔!

تخیل ادبی فورم کے پیٹرن ان چیف اور مہمانِ اعزازی منصور محبوب چوہدری نے اپنے کلام سے سامعین کو اپنے تصوراتی جہان کا ایک منفرد رخ متعارف کرایا ۔۔ کہتے ہیں

ہماری رام لِیلا بس یہی ہے
ہماری چھت ہمی پر آ پڑی ہے

در و دیوار و چھت جب گر چکے ہیں
تو پھر کس آس پر سیڑھی کھڑی ہے

مہمانِ خصوصی اور تخیل ادبی فورم کے میڈیا سیکریٹری کامران ملک نے تو جیسے سامعین کے دل ہی لوٹ لئے ۔۔۔ فرماتے ہیں

اگر ہم سے محبت تھی ہماری مان تو رکھتے
تم اپنے واپس آنے کا کوئی امکان تو رکھتے

تمھاری ہر شکایت کی تلافی عین ممکن تھی
مگر اپنے پرائے کی کوئی پہچان تو رکھتے

محفلِ مشاعرے کے میزبان ڈاکٹر ندیم بھٹی نے تخیل ادبی فورم، یونائیٹڈ میڈیا فورم، میڈیا کے تمام نمایندئگان، شعراء کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور شعرا کو زبان کو دل قرار دیا ۔ انھوں نے علامہ محمد اقبال کی یاد میں برپا اس محفل کی کامیابی پر تمام شرکاء کو بھرپور مبارک دی ۔

صدرِ محفل اور شگفتہ اردو ادب کے آفتاب الوقت شوکت جمال نے انتظامیہ اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ایسے پروگراموں کو تواتر سے منقعد کرتے رہنے کو سراہا ۔ مزید آپ نے علامہ محمد اقبال کی نسبت سے ایک تصوراتی نظم بعنوان “اگر ایسا ہوتا” سنا کر سامعین کو مسکراہٹیں بانٹی ۔ فرماتے ہیں

علامہ اس سمت جو آتے
لیبر لا میں وہ پھنس جاتے

پیشہ کیا ہے کیا لکھواتے
کیا کرتے ہیں، کیا بتلاتے

محفل کے دوران جا بجا اور اختتام پر مرحوم پروفیسر جاوید اقبال کا ذکر ہوتا رہا۔ تمام شرکاء نے ان کی اچانک رحلت کو ایک افسوس ناک واقعہ قرار دیا اور ان کے مغفرت کی دعا کی ۔ اللہ تعالی انھیں غریقِ رحمت کرے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں