88

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ملازمین کا احتجاج 20 روز میں شامل

1)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل کے خلاف ادارے کے ملازمین کی طرف سے احتجاج 20 روز میں داخل
2)ادارے کے ملازمین کو صدارتی آرڈنس پاکستان میڈیکل کمیشن 2019 کے زریعے تمام ملازمین کو اپنے بنیادی ملازمتوں سے بغیر کسی قانونی طریقہ کار سے برطرف کردیا گیا۔
3)احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا حکومتی اقدام پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9کی خلاف ورزی ہے۔ ادارے میں ملازمین 35 سال سے سروس کررہے ہیں ان کی کیئریر کو بھی تباہ کردیا ہے۔
5)گزشتہ روز حکومتی وزرا نے 6000 ڈاکٹرز جنہیں سعودی عرب سے اپنی ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا ہے اس کا زمہ دار پی ایم ڈی سی کو ٹھہرایا۔ جو سراسر غلط بیانی ہے جبکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ چھ ہزار ڈاکٹرز کی برطرفی کا ذمہ دار سی پی ایس پی ہے جس کے سربراہ کو اسی حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن کا براہراست ممبر بنایا ہے۔
6)دوسری جانب وزرا کی طرف سے میڈیکل کالجز کے اضافے کے متعلق بیان دیا تو اس پر واضح کرتے چلیں کہ کالجز کے قیام اور منظوری کا نوٹیفکیشن وفاقی محکمہ صحت جاری کرتا ہے اور یہ تمام کالجز ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ہیلتھ منسٹری کے زمانے میں ہوا ہے۔
7)حکومت کی طرف سے یہ بیان آنا کہ میڈیکل کالجز کے سربراہ ادارے کے ممبر رہے ہیں تو ممبر کا تعین حکومت آرڈنس اور ایکٹ کے زریعے کرتا رہا ہے اس سے ملازمین کی برطرفی کا کیا تعلق ہے۔ جبکہ تاریخ میں پہلی دفعہ ادارے کو پراویٹ سیکٹر کے حوالے کردیا گیا ہے۔
8)پراویٹ سیکٹر کو فیسوں کا تعین کرنے کا مکمل اختیار دینے کے بعد فیسوں کا بوجھ والدین پر بڑھ جائے گا جسے کا ریگولیٹ کرنے کا کوئی مکینیزم نہیں ہے۔
9)ادارے میں جن افسران کی تعیناتی کی گئی ہے ان کو کام میں سستی اور کاہلی پر پچھلے کونسل نے جن کے ممبران اس کمیشن میں بھی شامل ہیں انہیں جواب طلبی کے نوٹس اور وارنگ بھی ایشو کرچکے ہیں ۔

10)مقررین نے کہا کہ وہ اپنا سیاسی اور قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔ حکومت کو گمراہ کرکے کچھ مخصوص مافیہ نے اس اقدام کو اٹھایا۔ اس کے پیچھے تمام عناصر کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں