30

کہانی زندگی کی

نصرت جبین ملک

ثمینہ بی بی کا کبھی بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے گھر پہ راج تھا۔ ابا اور اماں ہر معاملے میں اسی کی مانتے تھے ۔گھر میں موجود دو معمولی صورت اور اس سے کچھ عمر بڑی پھوپھی آسیہ اسے بہت کھٹکتی تھیں۔وہ سوچتی کہ پتہ نہیں دادا کسی جرم میں اپنا یہ بوجھ ان پر اتار گئے ہیں ۔دادی اماں حیات تھیں مگر ان کی حیثیت بھی پھپھو سے کچھ کم نہ تھی ۔آخر ثمینہ اور اس کی امی کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آکر  انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی  سرکاری ادارے کے ایک چپڑاسی سے  کر دی کیونکہ ثمینہ اور اس کی امی اس کو اب اپنی بیٹی کے رشتوں کی راہ میں رکاوٹ بھی سمجھنے لگیں تھیں۔پھر آخر ثمینہ اپنی سے بڑی حیثیت والے گھر کی بہو بن گئیں اس میں اس کا حسن بھی کام آیا اور اچھا رشتہ پھانسنے میں اس کی ماں کی ہوشیاری بھی، مگر کچھ دنوں بعد ہی ثمینہ کو پتہ چل گیا کہ حسن کا سکہ ہمیشہ کارآمد نہیں رہتا تو ہوشیاری کبھی مزید عیبوں کو برہنہ بھی کر دیتی ہے انہی وجوہات کی وجہ سے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے اس کی اوقات گھر کے نوکروں سے بڑھنے نہیں دی اسے خیال آتا کہ اس گھر میں اس کے پاس دولت ہے مگر اپنی پھپھو کی طرح عزت و احترام اور سکون جیسی انمول نعمتیں موجود نہیں.

اگلی کہانی رضا خان کی ہے جس چھوٹے بھائی نے وفات پائی تو اس  نے اپنے یتیم بھتیجوں کی کفالت کے بہانےآہستہ آہستہ  عیاری سے تمام جائیداد اپنے نام کروا لی اور ان کو ماہانہ معمولی خرچہ دینے لگے۔ان کی بھابی ایک فیکٹری میں ملازمت کرنے لگیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے حصول میں دقت نہ ہو ۔دوسری طرف رضا خان کے بچے دوسروں کے مال پر عیش  وعشرت کی زندگی گزار رہے تھے ۔اللہ غالب ہے اور وہ انسان کو مغلوب کرنے کے راستے پتھریلے پہاڑوں سے بھی نکال لیتا ہے ۔چچا کے تمام بچے آوارہ، نشئی اور کام چور نکلے، زندگی کی سختی ان سے نہ گزری تھی سو جائیداد کی آئے روز فروخت سے نظام, زندگی چلانے لگے اور ایک وقت یہ آیا کہ رضا خان کی تمام تر نصیحتیں بے کار گئیں اور اور وہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے۔چچا  روز اپنے بھتیجوں کو بیٹھک کے دروازے سے  بڑی گاڑیوں میں آتے جاتے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کتنی اچھی فیصلہ ساز ہے وہ طاقت جو ہمارے ارادوں کو ناکام اور ہماری پلاننگ کو اس طرح سے تہس نہس کردیتی ہے کہ ہم کسی کو اس کا مورز الزام بھی نہیں ٹھہرا سکتے .
آخری کہانی میری سنئے ،آج سے کوئی دو ماہ پہلے ایک عورت بڑی عجلت میں میر ے سکول آئی۔اس کی بیٹی کئی سال پہلے یہاں پڑھتی رہی تھی اس نے بڑے احترام سے کہا کہ میری بیٹی آپ کے سکول پڑھتی رہی تھی ہم نے اس کا شناختی کارڈ بنوانا ہے برائے مہربانی اس کی سکول رجسٹر میں موجود تاریخ پیدائش تو لکھ دیں بڑی مہربانی ہوگی۔اس کی بات سن کر میں نے لا پرواہی سے جواب دیا  ” بی بی آپ یونین کونسل سے جاکر لکھوا لیں میرے پاس ٹائم نہیں ہے ” اس نے سہمے ہوئے انداز سے کہا  “جی سنا ہے اس پر توبڑے پیسے لگتے ہیں جبکہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، فرزانہ کے ابا جان بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں وہ میری اکلوتی اولاد ہے میں اپنے بھائیوں کے گھر رہ رہی ہوں ہر معاملے میں ان کی محتاج ہوں آج اچانک انہوں نے بتایا کہ اپنی بیٹیوں کا شناختی کارڈ بنوانے جا رہے  تو سوچا کہ ساتھ میری  بیٹی کا کام بھی ہو جائے گا اللہ آپ کا بھلا کرے گا “اس عورت کے یہ الفاظ بھی مجھے موم نہیں کرسکتے میں نے چائےکی پیالی کے ٹیبل پر آنے کے بعد اس سے نکلنے والے دھوئیں سے اندازہ لگا لیا کہ اس کا سرد پڑنے کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے سو میرا لہجہ بھی سرد ہو گیا “ایک تو آپ لوگ آتے بڑی جلدی میں ہیں اور بہرحال آج تو میرے پاس ذرا بھی وقت نہیں ہے آپ کل آجائیے گا۔پلیز اب آپ جا سکتی ہیں ۔وہ آہستہ آہستہ بے ربط سے قدم اٹھاتی باہر کو چلی گئی اور میں چائے پینے لگی  ۔اگلے روز میں نے خیال کیا کہ اگر اسے ضرورت محسوس ہوئی اور وہ آئی تو میں سرٹیفکیٹ بنا دوں گی  ورنہ بنانا بے فائدہ ہے ۔مگر شاید اسےاب اس کی ضرورت نہیں تھی سو وہ نہ آئی۔اس واقعہ کے تیسرے روز میں نے اپنی پے کا چیک نکلوانے کے لئے بھائی کو بنک بھیجا تو معلوم ہوا کہ بائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے میرا اکاونٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے مجھے بہت غصہ آیا کیونکہ میں بائیو  میٹرک تصدیق کروا چکی تھی، پھر دوبارہ بنک گئی جو کہ گھر سے 18 کلو میٹر دور ہے اور حقیقت بتائی تو وہ بولے کہ آپ واقعی آئی ہوں گی مگر کسی وجہ سے سسٹم  تصدیق نہیں کر رہا سو دوبارہ کرنی پڑے گی چنانچہ یہ کام کروا کے گھر واپس آئی اور تیسرے روز چیک کیش کروانے کے لیے کسی کو بھیجا تو پتہ چلا کہ شناختی کارڈ کا نمبر اکاؤنٹ ہولڈر یعنی میرےنمبر سے میچ نہیں کر رہا اس لئے اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے  میرا پارہ چڑھ گیا اور بنک ملازمیں کی نااہلی
،لاپرواہی اور غیر پیشہ ورانہ روئیے پر غصہ آنے لگا کہ جس اکاونٹ نمبر کو استعمال کرتے ہوئے مجھے پندرہ سال ہو گئے تھے آج سسٹم میں ایسی کون سی خرابی ہو گئی کہ اس میں دوبارہ سے تصیح کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی ۔میں بنک گئی تو بہت رش تھا میں نے جب ایک گھنٹہ بنک میں گزارا توانہوں نے مزید آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کو کہا تو یہ آدھا گھنٹہ میرےلئے بہت مفید ثابت ہوا ۔میں جب پچھلے دنوں کا حساب لگانے بیٹھی، اس بے ترتیبی اور ذلالت کا کھاتا کھولا تو مجھے وہ  بیوہ عورت اور اس کے چہرے پر پھیلی حسرت اور پیشانی کے افق پر پھیلی ہلکی سی سلوٹیں یاد آگئیں اس کے وہ منت سماجت والے جملے میرے کانوں سے ٹکرانے لگے میں ایسی تھی تو نہیں مگر نجانے کیوں اس دن چائے کی پیالی ٹھنڈی ہونے کے ڈر سے میں نے اسے ٹال دیا تھا جب کہ میں اسے کچھ دیر انتظار کا بھی کہہ سکتی تھی یا پھر وہ چائے دوبارہ گرم بھی کی جا سکتی تھی مگر ان دونوں آپشن پر میں نے غور نہیں کیا تھا، میں بھی آج انتظار کی اسی چکی میں پس رہی تھی ۔ ہم لوگ عجلت، حماقت، حرص  یا پھر نفسا نفسی کے عالم میں ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں کہ جو پھر ہمارے لئے پاؤںں کی کلہاڑی  بن جاتی ہیں جو ہمارے عزائم کو ناکام اورسوچ کو منتشر کر دیتی ہیں اسی دوران مجھے اپنی بڑی اماں کی ایک بات یاد آگئی جو وہ اکثر فضا میں ہاتھ لہرا کر کہا کرتی تھیں “پتر بڑی بڑی نیکیاں تو بڑے لوگ کرتے ہیں، کوئی نبی، ولی، درویش یا بہت زیادہ مالدار  لوگ جو اپنے مال  کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ہم تو چھوٹے چھوٹے لوگ ہیں ہم چھوٹی چھوٹی نیکیاں کریں گے تو ہمارہ اجر بڑھے گا ”  ابھی میں اسی سوچ میں تھی کہ میرا نام کاونٹر سے پکارا گیا ۔میں جا کر بنک آفیسر کے سامنے چیئر پر  بیٹھ گئی ۔وہ نگاہیں کمپیوٹر کی سکرین پر گاڑھے گھونٹ در گھونٹ چائے پینے لگے شاید وہ بھی میری طرح چائے ٹھنڈی ہونے کا رسک لینا نہیں چاہ رہے تھے یہ سوچ کر میرے چہرے پر دبی سی مسکراہٹ پھیل گئی اپنی دھکم پیل اوربنک اہلکاروں پر جو غصہ آرہا تھا وہ رفو چکر ہو گیا تھا ۔مجھے لگا کہ چائے کی دوسری پیالی میری پہلی پیالی کا کفارہ بن چکی ہے اور ان دو پیالیوں تک کا یہ سفر رائگاں نہیں گیا تھا۔

نوٹ: یہ کالم لکھاری کی جانب سے براہ راست ادارٹی ٹیم راولپنڈی ٹائمز کو بھیجوایا گیا ہے۔ خیالات لکھاری کی خالصتاً رائے ہے۔ ادارہ راولپنڈی ٹائمز کا ان خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں