199

سعودی عرب نے 25 اگست 2020 سے خارجیوں کو کاروبار سے باہر کرنے کے لئے نئی حکمت عملی بنا لی

سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ 25 اگست 2020 سے ہر قسم کی ادائیگی بذریعہ اے ٹی ایم کارڈ کی جائے گی اور پیسے براہ راست کفیل کے اکاوئنٹ میں جائیں گے ۔ اسطرح جو اصلی مالک ہو گا رقم اسی تک ہی پہنچے گی
وزارت تجارت کے ترجمان نے ٹویٹر پر بتایا کہ یہ پابندی شیشہ، ہر چیز 2ریال (ریالین) والی دکانوں، پنکچر، ورکشاپوں،کیٹرین (کھانے تیار کرنے والے)، افغان، ایشیائی اور دیگر کھانے تیار کرنے والے ریستورانوں ، خوشبویات کی دکانوں، چائے اور قہوہ خانوں ، مصالحہ جات، محلوں، گلیوں میں قائم بقالے (جنرل اسٹور)، پٹرول اسٹیشنوں کی منی مارکیٹس، مردانہ ملبوسات فروخت کرنے والی دکانوں، تھوک میں کھلونوں کا کاروبار کرنے والی دکانوں، گفٹ شاپس اور
پلاسٹک کوٹنگ کرنے والی دکانوں پر لاگو ہوگی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی پر عمل نا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی اور اس کے لئے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائینگی جو چھاپے مار کر اس بات کو یقینی بنائیگیں کہ ہر شخص پابندی کا احترام کر رہا ہے کہ نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں