198

حج کی ایک تصویر جس نے بچھڑے ہوئے کو ملا دیا ۔۔

راولپنڈی ٹائمز (مکہ ) ہم یہ سمجھے تھے کہ وہ مر چکے ہوں گے۔ امید بھی دم توڑ گئی تھی۔ تسلی تھی کہ چلو اگر چل بھی بسے تو مقدس سر زمین پر ہی تھے۔ 13 سال بعد فیس بک پر بھائی کو تصویر نظر آئی تو اس نے انہیں پہچان لیا۔ اب سعودی عرب جا کر انھیں مل کر تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ جن کو ہم نے پہچانا وہ ہمارے والد ہی ہیں یا ان کا کوئی ہم شکل ہے۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلعے پشاور کے گاؤں وڈ پگہ کے رہائشی ارشد علی کے ہیں۔ ارشد علی کے والد صارم شاہ 2006 میں سعودی عرب عمرے کی غرض سے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ 
ارشد علی کے بقول ان کے والد ایک عام کسان تھے۔ ’اللہ کا گھر دیکھنے کی تڑپ تھی۔ 79 برس کے ہوگئے تھے مگر وسائل دستیاب نہیں ہو رہے تھے۔ بالآخر انھوں نے اپنی زمین بیچ کر عمرے کا ویزہ لیا اور چلے گئے تاہم سفری دستاویزات گم ہو جانے کے باعث وہ لاپتہ ہوگئے۔
سعودی فوٹو گرافر کی حج کے دوران ایک بزرگ کی بنائی گئی تصویر جو وائرل ہو گئی تھی

13 سال سے ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔‘ 

ارشد علی نے بتایا کہ ’رواں سال کے حج کے دوران ایک سعودی پولیس اہلکار کی ایک بزرگ حاجی کو اٹھائے ہوئے تصویر وائرل ہوئی۔ ہمارے بڑے بھائی نے وہ تصویر فیس بک پر دیکھی تو گھر والوں کو بھیج دی۔ سب گھر والوں نے پہچان لیا کہ پولیس اہلکار نے جس بزرگ کو اٹھایا ہوا ہے وہ ہمارے والد ہیں۔ پھر گلی محلے کے لوگوں اور عزیز رشتے داروں نے بھی پہچانا۔‘
صارم شاہ کے بیٹے نے مزید کہا کہ ’ہماری والدہ ابھی حیات ہیں لیکن بہت ضعیف ہو گئی ہیں۔ ان کو بھی تصویر دکھائی تو انھوں نے بھی کہا کہ یہ تصویر تمہارے باپ ہی کی ہے۔‘
ارشد علی کہنے لگے کہ ’ہم والدہ سے کہتے ہیں ابھی نہ جانا ابا آ رہے ہیں۔‘
ارشد علی نے بتایا کہ ان کے والد کی عمر اس وقت 92 برس ہے اور ان کو کم سنائی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ چار بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ ابا کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی تعداد 34 ہے۔
ان کے بقول ان میں سے اکثر 13 سال پہلے چھوٹے تھے تو ان کو اپنے نانا دادا یاد نہیں لیکن اب وہ خوش اور پرامید ہیں کہ ان کی جلد از جلد ملاقات ہو سکے۔ 
ارشد کے مطابق 13 سال پہلے بڑا بھائی ان کی تلاش میں سعودی عرب گیا تھا لیکن مایوس واپس لوٹا۔ اب ایک بار پھر امید جاگی ہے تو نئے سرے سے کوشش شروع کی ہے۔ ’سعودی عرب میں پاکستان سفارت خانے میں مدثر چیمہ نامی افسر سے رابطہ ہوا ہے اور انھوں نے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔‘ 
جدہ میں اردو نیوز کے نامہ نگار خالد خورشید کو بھی سفارت خانے کے حکام نے اس رابطے کی تصدیق کی ہے۔ سفارت خانے نے سعودی حکام سے اس معاملے پر رابطے بھی کیے ہیں۔ 
ارشد علی کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سعودی سفارت خانہ اپنا کردار ادا کرے۔ انھیں اس تصویر میں موجود بزرگ تک رسائی دی جائے تاکہ وہ ان سے مل کر تصدیق کر سکیں کہ وہ ان کے والد ہیں یا ان کا کوئی ہم شکل ہے

انھوں نے سعودی سفیر سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت 92 سالہ بزرگ کو ان کے خاندان سے ملوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں