443

کیا عارف علوی نے واقعی تین سو ارب کے قرضے معاف کر دئیے ہیں حقیقت کیا ہے ؟

ایک افواہ جو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جسکے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بڑے بڑے کاروباری نادہندگان کے ذمے 208 ارب روپے کے قرضے معاف کرکے اپنے منشور سے روگردانی کی۔

حقیقت جاننے کیلئے چند سال پیچھے جانا ہوگا۔

2011 میں جب ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنا تو اس وقت کی زرداری حکومت نے فیصلہ کیا کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی ) کے نام سے گیس کے صارفین سے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے جس سے ایران گیس پائپ لائن کی فنڈنگ ہوگی۔

اس کی زد میں وہ تمام صنعتی سیکٹرز آگئے جو اپنے پلانٹس چلانے کیلئے قدرتی گیس کا استعمال کرتے تھے۔ ان میں فرٹیلائزرز، ٹیکسٹائل سے لے کر تقریباً تمام صنعتیں شامل تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بجلی 18 گھنٹے غائب رہا کرتی تھی اور ان انڈسٹریز کا آؤٹ پٹ پہلے ہی کم ہوچکا تھا، جب جی آئی ڈی سی کی وجہ سے ان پٹ کاسٹ بڑھی تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ پھر ایک ایک کرکے یہ صنعتکار عدالتوں میں جانا شروع ہوگئے۔

سب سےپہلے پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخواہ کے صنعتکاروں پر اس ٹیکس کا نفاذ معطل کیا، حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، وہاں بھی شکست ہوئی اور سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

پھر اس کی تقلید میں پنجاب کے صنعتکاروں نے لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 2014 میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی جی آئی ڈی سی کو غیر قانونی، غیر آئینی قرار دے کر اسے معطل کردیا۔

پھر 2015 میں نوازحکومت نے زرداری کا بنایا ہوا آرڈیننس میں ترمیم کرکے اسے نئے سرے سے لانچ کیا۔ اب اس کی زد میں گھریلو صارفین کی بجائے انڈسٹریز ہی آتی تھیں اور جی آئی ڈی سی کا ریٹ بھی کچھ کم کردیا گیا۔

ابتدا میں کچھ انڈسٹریز نے جی آئی ڈی سی کی مد میں اضافی ٹیکس دینا شروع کیا لیکن پھر ن لیگ نے یکایک سی این جی سیکٹر کو پچاس فیصد معاف کردیا۔ جونہی یہ اقدام ہوا، باقی کی انڈسٹریز نے جی آئی ڈی سی کی ادائیگی بند کرتے ہوئے معاملہ عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا اور عدالت سے سٹے آرڈر لے آئے۔

اب صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف تو جی آئی ڈی سی کی مد میں ٹیکس اس طرح سے وصول ہونا بند ہوگیا، دوسری طرف کوئی بھی نیا سرمائے دار پاکستان کے بڑے بڑے سیکٹرز بالخصوص ایگری کلچر، فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل میں نئے پراجیکٹ لانا بند ہوگیا کیونکہ جی آئی ڈی سی کی وجہ سے ان پٹ لاگت بہپت بڑھ چکی تھی ۔ ۔ ۔ جی ہاں، آپ ٹھیک سمجھے ۔ ۔ ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری انڈسٹریل آؤٹ پٹ کم ہوتی گئی اور یوں ن لیگ کے دور میں ہماری ایکسپورٹس میں 30 فیصد تک کمی آگئی۔ ن لیگ کو تو کوئی فرق نہ پڑا کیونکہ انہوں نے چالیس ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ لے کر روپے کی قدر برقرار رکھی لیکن ہماری معیشت کا کچومر نکل گیا۔

موجودہ حکومت بنی تو ستمبر 2018 میں پاکستان بزنس کونسل نے عمران خان اور وزیرخزانہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ جی آئی ڈی سی پر نظر ثانی کی جائے۔

جنوری 2019 میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اسدعمر نے تمام صوبوں کو بتایا کہ اس پر غور ہورہا ہے۔

مارچ 2019 میں اسد عمر نے جی آئی ڈی سی کا ریٹ کم کرنے کا اعلان کردیا۔

پھر اس کے بعد انڈسٹریز کے نمائیندگان سے وزارت خزانہ کے مذاکرات جاری رہے۔ حکومت کو لگ رہا تھا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی عدالت انڈسٹری کے حق میں فیصلہ دے کر جی آئی ڈی سی ختم کردے گی اور پھر اس کی وجہ سے اب تک جتنا بھی جی آئی ڈی سی موصول ہوچکا، وہ بھی واپس کرنا پڑے گا۔

چنانچہ چند روز قبل حکومت کی کاروباری طبقے سے ڈیل ہوگئی جس کے تحت ان کے ذمے واجب الادا جی آئی ڈی سی کا پچاس فیصد حکومت معاف کردے گی اور باقی کا حکومت کے خزانے میں رہے گا۔ اس کے علاوہ چونکہ گیس پائپ لائن پر پچھلے 8 برسوں میں کوئی کام نہیٰں ہوسکا، اس لئے جی آئی ڈی سی ختم کردیا جائےگا۔

اس اعلان کا بزنس طبقے کو تین ماہ پہلے پتہ چل چکا تھا، یہی وجہ ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے کے باوجود گزشتہ سہ ماہی میں ہماری ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا کیونکہ اب نئے سرے سے سرمایہ کاری اور آؤٹ پٹ میں بڑھوتری ہونا شروع ہوگئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں