74

کس ڈگر پر گامزن ہیں ہم

کہنے کو ہم ایک آزاد مسلمان ریاست کے باسی ہیں. اس ملک کے قیام کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست کا قیام یعنی اسلام کی
بالادستی اور اسلامی قوانین کا نفاذ. ہم نے تین دن دن قبل ہم نے 72 سالہ جشن آزادی منایا گویا 72 سال گزرنے کے بعد بھی ہم
اس ملک میں اللہ اور اسکے رسول کے دین کی روشنی میں قانون سازی نہ کر پائے. کیوں کیسے اور وجوہات پر لکھنے والوں
نے بہت لکھا اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکا مگر ایسا نہ کرنے سے ہم اس دلدل میں تیزی سے دھنستے
جارہے ہیں جہاں سے شاید ہماری واپسی ممکن نہ ہو سکے اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن جائے. ہم توبہ کرنا چاہیں بھی تو
ہماری توبہ قبول نہ ہو ہم معاشرے میں برائی کی اس نہج پر پہنچ جائیں جہاں ہمارے گھر کی دہلیز بھی محفوظ نہ رہ سکے. خدا
کے لئے اپنے آپ کو پہچانو کہ ہم کون ہیں ہمارا مقصد حیات کیا ہے اور ہم کس ڈگر پر گامزن اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی پر
تلے ہوئے ہیں.
گزشتہ دنوں راولپنڈی پولیس نے ایک شادی شدہ جوڑے کو ایک بچی کی درخواست پر گرفتار کیا. تفتیش کے دوران جو انکشافات
ہوئے وہ نہ صرف دل دہلا دینے والے اور انسانیت کو شرما دینے والے تھے بلکے بحثیت ایک مسلمان شرم سے ڈوب مرنے کے
قابل تھے.
قاسم جہانگیر نامی ایک مکرو شخص اور کرن جہانگیر نامی وحشیہ اسکی بیوی راولپنڈی کینٹ اور اسکے مضافات سے معصوم
بچیوں کو اغوا کرتے اور وہ درندہ انکے ساتھ بدفعلی کرتا جبکہ اسکی بیوی انکی ویڈیو بناتی پھر انکے ساتھ کیا کیا جاتا الفاظ
نہیں اور ہمت بھی نہیں کہ تحریر کرسکوں. 45 بچیوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کا کھیل کھیلا گیا یہ تو وہ جن کا اعتراف انہوں
نے کیا باقی کا کیا پتہ کہ اور کتنی بچیوں کے ساتھ ظلم کی داستان رقم کی گئی. صرف ایک بچی نے اپنی بربادی کی داستان
تھانے جاکر بتائی کہ شاید اس عمل سے اور کسی کی زندگی برباد ہونے سے بچ جائے. وہ 44 بچیاں معاشرے میں ڈر کے خوف
سے کچھ نہ بتا سکیں. ابھی تک کی کارروائی میں راولپنڈی پولیس شاباش کی مستحق ہے کہ اس نے ان درندوں کو ڈھونڈ نکالا
اور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلانے کے لئے عدالت میں پیش کر دیا ہے. زینب واقعہ قصور سے لے کر ج م س واقعات کا
تسلسل مسلسل ایسے واقعات اور اب تو ہر دن جیسے آج کی نوائے وقت میں راولپنڈی کے ساتھ جڑے شہر اسلام آباد میں سے
ماں بچی اور دو لڑکیوں کے اغوا کی خبر
دو معصوم بچوں سے زیادتی کی کوشش کی خبر
23 سالہ بچی راولپنڈی شہر سے اغوا کی خبر
ایسا لگتا ہے کہ اخبار میں اور کوئی خبر ہی نہیں ہر گلی محلے چوک چورائے میں ایک وحشی ایک درندہ ایک جنسی ہوس کا
شکاری کھڑا ہے کب کس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالے کیا خبر
یہ سب کیا ہے ہم میں سے ہی یہ ذہنی طور پر بیمار لوگ ہیں جو یہ مکرو دھندا کر رہے ہیں. کیا ایک مسلمان ایسی حرکت کا
سوچ بھی سکتا ہے. جبکہ میرے شہر میں رمضان کے بعد ایسے واقعات اچانک اضافہ کس بات کی نشاندہی کررہا ہے. پچھلے
دو ماہ سے اس موضوع پر لکھ کر جو میں کرسکتا ہوں آپ احباب کو بتانے کی کوشش کر رہا ہوں ایک آگاہی مہم بھی شروع کر
رکھی ہے جسکا حصہ بننے کی بار بار آپ سے درخواست بھی کررہا ہوں مگر افسوس سے کہ رہا ہوں ہمیں یہ مسئلہ یہ برائی
برائی ہی نہیں محسوس ہو رہی شاید ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ یہ عام سی بات ہے کیونکہ ابھی تک ہم اس سے بچے ہوئے ہیں
مگر کب تک خدانخواستہ کل ہمارے بچے بھی اسکا شکار ہو سکتے ہیں تب آنکھیں کھولو گے تب تک دیر ہو چکی ہوگی.
انتہائی معزرت کے ساتھ ہمیں تو فرصت ہی نہیں سیلفیوں اور
پٹواری
یوتھیا
فلاں کافر فلاں کافر
اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں جسکا کوئی مجھے ایک فائدہ بتادے تو تب میں بھی شریک ہو جاوں. سوچے سمجھے بغیر سوشل
میڈیا پر پتہ نہیں بڑے بڑے دعوے مگر ارد گرد کی کوئی خبر ہی نہیں کہ کیسے ہماری نسل منشیات اور اس جنسی بیماری میں

مبتلا ہو رہی ہے. اقبال کے شاہین بننے کی بجائے ہمارے نوجوان کیا کر رہے ہیں. اسلام کا مطلوب نوجوان کہاں ہے جسکا شباب
بے داغ ہو ایسے نوجوان کہاں ہیں.
اقبال نے جس نوجوان کی بات کی تھی کہ
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
کیا وہ یہ نوجوان نسل ہے جسکے بارے میں
اقبال شاہین کو قصر سلطانی کی گنبد پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے لئے کہتے ہیں ان کے خیال میں جب
نوجوانوں میں عقابی روح پیدا ہوتی ہے تو انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کی گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
عقابی روح تو دور یہ کس ڈگر پر گامزن ہیں جسکی منزل فقط بربادی اور صرف بربادی

آخر کیا وجہ ہے کہ دین کی تبلیغ پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے. تبلیغی اجتماعات میں پہلے سے زیادہ لوگ شریک ہو رہے ہیں.
دینی محافل میں شریک ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے. اسلامی سکالر کے چاہنے والوں میں چاہے وہ کسی بھی فرقے
سے تعلق رکھتے ہوں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے وہاں دین سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے اسکے باوجود ہم ذہنی
طور پر اتنے گر گئے کہ ایسی حرکات میں ملوث جن سے ہمارا اسلام سختی سے منع کرتا ہے ہم ڈھٹائی سے کر رہے ہیں کیا
عالم دین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ دنیا والوں سے ڈر کر نہیں بلکہ جو رب ہر وقت ہر جگہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس سے ڈر کر
برائ مت کرو. نماز روزہ سارے احکامات پر عمل ضروری مگر کیا وہ سب کرنے کے بعد مخلوق خدا کی تضحیک اپنی جنسی
ہوس مٹانے کے اس مکرو عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے. دنیا ہم پر ہنستی ہے کہ پاکستانی سب سے زیادہ گوگل پر فحش
فلموں کے تماش بین ہیں اور ہم مسلمان کہلواتے ہیں.
ہماری دعائیں کیسے قبول ہوں. ایک طرف رب العزت کے بتائے ہوئے احکامات کی دھجیاں بکھیرتے ہیں اور دوسری طرف پھر
اسکی رحمت اور برکت کے طلب گار ہوتے ہیں کیسے پھر وہ ہماری بات سنے. شراب منع ہے نشہ ممنوع ہے اسلام میں مگر ہم
شراب بھی پیتے ہیں اور پھر دعا نہ قبول ہونے کا رونا روتے ہیں.
خدا کے لئے اب بھی وقت ہے معافی مانگ لیں توبہ کر لیں اور والدین پہلے خود کو اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے
راستے پر چل پڑیں اور پھر اولاد کو صحیح اور غلط راہ کا شعور دیں انکی تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھائی کا سبب
بنیں نہ کہ رب العزت کے احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی کرکے اپنی آخرت خراب کریں.
رب قادر کریم سے دعا ہے کہ ہمیں معاف کر دے ہمیں سیدھی راہ پر جسکا تو نے حکم دیا ہے اس گامزن کر دے ہمیں توفیق دے
کہ ہم بھٹکے ہوں کو راہ راست پر لاسکیں ہمیں توفیق دے کہ ہم معاشرے کو سدھارنے والوں میں سے ہو جائیں نہ کہ ہمارا شمار
گمراہ ہونے والوں میں سے ہو.
آپکی دعاؤں کا طالب
ملک عبدالصبور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں