185

مستقبل کا فیصلہ

مستقبل کا فیصلہ
فرسٹ ائیر رزلٹ 2019
آج نتائج آنے کے بعد کچھ طالب علم خوش اور کچھ ناخوش کچھ رب کی رضا پہ راضی اور کچھ اپنے سے اداروں سے یا والدین سے گلہ شکوے شروع
ہر ایک طالب علم کی خواہش کے وہ اتنے نمبر لے کہ اس کا پاکستان کی سب سے بہترین یونیورسٹی میں داخلہ ہو سکے سب کا خواب یکسر، مگر اس خواب کی تعبیر کسی کسی کے حصہ میں آتی
محنت تو ہر ہو کوئی کرتا کسی کو پھل نتائج یعنی نمبروں کی شکل میں ملتا ہے کسی کو اجر وقت آنے پہ ملتا تو کسی کو اور شکل میں پریکٹیکل زندگی میں ملتا ہے… پر ملتا ضرور ہے کیونکہ یہ میرے رب کا وعدہ ہے
نمر امید سے کم آنے اور محنت کر کے نمبر کم آنے پر انسان بہت مایوس اور اپنی قسمت اور مقدر کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے جس سے میرا ﷲ ناراض ہوتا ہے
خدارا اس بات کو زندگی موت کا مسئلہ مت سمجھیں کیونکہ میرا ﷲ ایک انسان سے 70 ماؤں اور 100 باپوں سے زیادہ محبت کرتا اس نے آپ کے لیے بہترین فیصلہ کر رکھا ہے، رب کی رضا پہ راضی رہیں اور محنت اور کوشش جاری رکھیں.
پری میڈیکل والے طالب علم کیا کریں اگر نمبر کم ہوں، کدھر اور کب اور کس شعبہ میں اپلائ کریں یہ بہت بڑا المیہ ہے جو کہ اول تو والدین یا اداروں اور اساتذہ کا کام بنتا ہے کہ وہ اپنے طالب علموں سے مشاورت کریں اور انکی مدد کریں مگر افسوس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا جس بچے گیپ ائیر، ڈپریشن اور مشکلات سے انکو دوچار ہونا پڑتا ہے
جس کے نمبر 440 سے اوپر مطلب 89 یا 90 ٪ نمبر ہوں تقریباً وہ طالب علم دل اور لگن کے ساتھ UHS مطلب UNIVERSITY OF HEALTH SCIENCES PUNJAB کا ٹیسٹ دے کر امید بھی رکھ سکتا ہے کہ اس کا ہو جائے گا اور ٹیسٹ ہر سال اگست کے آخری ہفتہ یا ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ہوتا اور اس میں بھی ہر بچے کو تقریباً 88 یا 90 فیصد سے اوپر نمبر لینے پڑتے ہیں پھر کہیں جا کر وہ MBBS یا BDS سرکاری کالج میں پڑھنے کی امید لگا سکتا ہے. خیر اب بات آگئ نجی میڈیکل یونیورسٹیوں کی جن کی سالانہ فیس 10 سے 12 لاکھ کے قریب ہوتی ہے اور ہر نجی یونیورسٹی NUMS کا ٹیسٹ مانگتی جس کا آخری میرٹ کسی اچھی یونیورسٹی کا 86 85 ٪ پہ بند ہوتا ہے اور یہ ٹیسٹ UHS کے ٹیسٹ سے بہت مشکل ہوتا ہے اور سب سے آخری میرٹ 82٪ پہ بند ہوتا ہے اور ان یونیورسٹیوں میں درمیانہ طبقہ جو کہ معاشرے میں سب سے زیادہ ہے وہ اپنی اولاد کو نہیں پڑھا سکتے
اب آگیا کہ یہ لوگ کیا کریں؟ والدین اور رشتہ داروں کے بقول بچہ فارغ ہو گیا بچے نے ہمارے خواب نہیں پورے کیے بچہ نالائق ہے ڈاکٹر نہیں بن سکا فلاں فلاں فلاں…
والدین کو چاہیے کہ اس گھڑی میں اپنی اولادوں سے پوچھیں کہ انکا اپنا دل کیا کرتا ہے وہ کیا چاہتے ہیں اگر انکا خواب MBBS یا BDS ہی رہتا ہے پھر بھی تو یا تو فرسٹ ائیر دوبارہ کریں یا سیکنڈ ائیر میں تقریباً 980 سے اوپر نمبر اگر لے سکتا ہے محنت کر کے تو ضرور کرے
پر اگر اس کا دل نہیں رہتا اور اسکے نمبر اتنے نہیں کہ وہ امپرومنٹ کر کے بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا تو پھر وہ سیکنڈ ائیر میں تقریباً 80 فیصد نمبر لے نہیں تو کم از کم 85 فیصد نمبر لازمی لے تاکہ داخلہ اچھی یونیورسٹی میں ہو سکے.
اب MBBS یا BDS کے خواب کے بعد والدین اور کچھ بچوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ
اب وہ کون سے ڈیپارٹمنٹ ہیں یا یونیورسٹی جو وہ پری میڈیکل کے بعد کر سکتا ہے.
ڈاکٹر ہی بننا ہے تو اس کے اور بھی شعبے ہیں اور وہ
PHARM D (Doctor Of Pharmacy)
DPT (Doctor of Physical Therapy)
DVM (Doctor of Veterinary medicine)
DDNS (Doctor Of Diet & Nutrition Sciences)
DOPT (Doctor of Optometry)
یہ اب کون سی یونیورسٹی کرواتی ہیں؟
Government :-
RMU (Rawalpindi Medical University)
PRIVATE :-
SHIFA, RIPHAH, University of Lahore ISB Campus, YUSRA Medical College, Margalla Medical College
اور بھی بہت سے نجی میڈیکل کالج ہیں اور ان شعبہ جات میں سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے بھی بہت نمبر درکار ہیں…
اب bachelor اگر کرنا ہے تو مندرجہ ذیل شعبہ جات ہیں :-
BS BOTANY
BS BIOTECHNOLOGY
BS BIOINFORMATICS
BS BIOCHEMISTRY
BS CHEMISTRY
BS PHYSICS
BS ENGLISH
BS URDU
BS PSYCHOLOGY
BS GENETICS
BS RADIOLOGY
BS ZOOLOGY
اب یہ کس یونیورسٹی میں اپلائ کیا جائے ان شعبوں میں…
QuaideAzam University Islamabad
NUST
NUML
ISLAMIC University
RIPHAH UNIVERSITY
SHIFA Tameer e Millat University
ہر یونیورسٹی کا اول تو اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے لیکن NAT یا NTS کا ٹیسٹ مئ جون جولائی کے مہینے میں وقفے کے ساتھ یہ ٹیسٹ ہوتا ہے یہ بھی فائدہ مند ہے کچھ یونیورسٹیوں کے ایڈمیشن کے لیے
ان کے علاوہ اور بھی بہت یونیورسٹیاں ہیں وہ مجھ سے یا کسی سے بھی مشورہ کر لیں اور پوچھ لیں ہچکچائیں مت
سب سے مشورہ ضرور کریں….

اب اس کے علاوہ اگر آپ اپنے بچے کو سرکاری نوکری اور سرکاری محکموں میں مستقبل میں دیکھنا چاہتے ہیں اور CSS یا پبلک سروس کمیشن کروانا چاہتے ہیں یا بچے کی اپنی مرضی ہے تو وہ
-BS IR (International Relations)
-BS BPA(Public Administration)
اب یہ کون سی یونیورسٹیاں کرواتی ہیں؟
QuaideAzam University, Bharia University, Numl, Islamic, Nust, National defence University
اس فیلڈ پر غور و فکر لازمی ہے یہ آنے والے وقت میں فائدہ مند ہے
اگر آپ ڈاکٹر نہیں بن سکے تو اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں بلکہ اب آپ کو کیا کرنا ہے اور کیسے کس میں داخلہ لینا ہے تو اس کا سب سے بہتر حل ہے کہ آپ ہر لمحہ دعا کریں سچے دل سے یا ﷲ مجھے جس مقصد کے لیے پیدا کیا اس کو پہچاننے کی، اس تک پہنچنے کی، اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرما آمین
انشاء ﷲ، ﷲکریم آپ کے بند دروازے کھول دے گا، آپ پر اپنا خاص کرم کرے گا
اپنی رائے کا اظہار لازمی کریں
غلطی کوہتائ معافی
دعاؤں کا طلبگار
معین ناصر چوراہی
رفیقِ سفر بزمِ فروغِ فکرِ اقبال پاکستان
یوتھ ایمبسڈر گلوبل پیس اینڈ ہارمنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مستقبل کا فیصلہ” ایک تبصرہ

  1. ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، پیارے نبی بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔ اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں. سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔ وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟ اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟ اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔ اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبرائیل علیہ السلام آئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔ “کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے” تحریر کو لائک کرنے سے اچھا ہے کہ شیئر کردے یہ آپکے اکاؤنٹ میں نیکیوں کا وزن زیادہ کرتی ہے (مسند احمد بن حنبل)

اپنا تبصرہ بھیجیں