65

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عمران خان اور مودی سے رابطہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے پر خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کی ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’(میں نے) اپنے دو اچھے دوستوں، انڈیا کے وزیر اعظم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم خان سے تجارت، سٹریٹیجک شراکت داریوں اور دونوں ممالک کے لیے سب سے اہم یہ کہ کشمیر کے مسئلے پر تناؤ کم کرنے کے لیے کام کرنے پر بات کی ہے۔‘

صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’ایک مشکل صورتحال میں یہ اچھی گفتگو تھی۔‘

انڈیا میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں کہا گیا ہے وزیرِ اعظم مودی کی صدر ٹرمپ سے فون پر ہونے والی گفتگو 31 منٹ تک جاری رہی جس میں دو طرفہ امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق خطے کی صورتحال پر ہونے والی گفتگو میں وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو مطلع کیا کہ ’خطے میں بعض رہنماؤں کی جانب سے انڈیا مخالف اشتعال انگیزی امن کے لیے موزوں نہیں ہے۔‘

’وزیر اعظم (مودی) نے دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول کی تشکیل اور بغیر کسی رعایت کے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔‘

انڈین پی ایم او کی جانب سے ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے غربت، ناخواندگی اور بیماریوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اس راستے پر چلنے والے ہر فرد کے ساتھ تعاون کرنے کے انڈیا کے عزم کا اعادہ کیا اور وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کا ان کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنے پر شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گیڈلے کا صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں کہنا تھا کہ ’امریکی صدر نے دونوں رہنماؤں کو انڈیا اور پاکستان کے مابین تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔‘

اس سے قبل گذشتہ شب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان کا صدر ٹرمپ سے دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیر کی شب رات 10 بجے ہونے والی گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو مودی کے اقدام کی وجہ سے خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ مودی حکومت کے پانچ اگست کے یک طرفہ اقدام نے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیر کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی اور کہا کہ خطے کا امن برقرار رہنا چاہیے اور اس حوالے سے امریکی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی آگاہ کیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی 16 اگست کو صدر ٹرمپ سے گفتگو ہوئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں