250

گوجرخان سے ملنے والی نامعلوم لاش کا ڈراپ سین محافظ ہی قاتل نکلے

بریکنگ نیوز

“” تھانہ گوجرخان پولیس کی ظلم کی انتہاہ “”

(( گوجرخان عمر فیض کی رپورٹ ))

یونین کونسل مطوعہ کے گاوں محمود بدوال داخلی چہیاری بنگیال اسٹیشن والی چہیاری کے رہاشی محمد الیاس بٹ والد آمین بٹ کو گوجرخان کے SHO نے آج سے تقریبا” 15 دن قبل ڈکیتی کے شبہ کے حوالے سے اٹھایا مبینہ طور پر معلوم ھے کہ پولیس نے مرحوم پر اتنا بے رحمانہ تشدد کیا کہ وہ خلق حقیقی سے جا ملا اور گوجرخان پولیس نے نہایت مہارت کے ساتھ مقتول کی نعش کو گلیانہ روڈ پر پھینک کر ڈرامہ رچایا کہ ھمیں اطلاع ملی ھے کہ گلیانہ روڈ پر ایک شخص کی لاوارث نعش پڑی ھوئی ھے اور باڈی پھر بلدیہ گوجرخان کے حوالے کر دی بلدیہ گوجرخان نے باڈی کو لاوارث سمجتے ھوئے باڈی کو ڈیب فریزر میں لگا دیا ادھر مقتول کے بھائی غلام عباس نے ” گوجرخان پریس کلب ” کو اطلاع دی کہ ھمارے بھائی الیاس کو تھانہ گوجر خان کی پولیس نے 26 جولائی سے اپنی کسٹڈی میں رکھا ھوا تھا اور ھمیں اس کے ساتھ بلکل ملنے نہیں دیتے تھے ہر روز بس یہ ہی پولیس کا بیان ھوتا تھا کہ بس کچھ پوچھ کچ کر رھے ہیں بس جلدی ہی چھوڑ دیں گے آج شام کو ھیں اطلاع ملی کہ آپ کے بھائی سے ملتی جلتی شکل والے ایک شخص کی باڈی گوجر خان مردا خانے میں پڑی ھوئی ھے – ھم نے باڈی کی شناخت کر لی ھمارے بھائی الیاس ہی کی نعش ھے دوسری طرف تھانہ گوجرخان پولیس کے کہی افسران تھانہ چھوڑ کر بھاگ گے ہیں اور SHO گوجرخان اور DSP گوجرخان نے اپنے اپنے سرکاری نمبر آف کیئے ھوئے ہیں ” گوجرخان پریس کلب ” کو یہ بھی معلوم ھوا ھے CPO راولپنڈی سمیت تمام سنیئر افسران کو اس سارے واقع کی پہلے ہی سے خبر تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں