29

کشمیریوں کی جانب سے کشمیر میں بھارتی آبادکاریوں پر بھارتی حکومت کو انتباہ!

کشمیریوں کی جانب سے کشمیر میں بھارتی آبادکاریوں پر بھارتی حکومت کو انتباہ!

اسلام آباد: (راولپنڈی ٹائمز / ویب ڈیسک / پ ر) یوتھ فورم فار کشمیر کے سرگرم کارکنان، اور وکلاء نے بروز بدھ نیشنل پریس کلب، اسلام آباد میں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے تناظر میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کواس وقت عالمی سطح پر گزشتہ سات دہائیوں میں مسئلہ کشمیر پر شدید ترین تنہائی کا سامنا ہے۔امریکہ، چین، اقوام متحدہ اور او آئی سی کی کڑی نگاہیں بھارت پر مرکوز ہیں اور عالمی میڈیا نے کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر عملدرآمد کو مسترد کردیا ہے اورعالمی میڈیا کشمیر کو تاحال ایک متنازعہ علاقے کے طور پر ہی دیکھ رہا ہے۔

اسلام آباد اور جنیوا میں متحرک یوتھ فورم فار کشمیر جو کہ ایک بین الاقوامی لابی گروپ ہے، کے نمائندگان نے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کو ایک خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کشمیریوں کی جانب سے بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ کشمیر میں بھارتی آبادکاریوں سے باز رہے وگرنہ تنازعہ اور تشدد کی سی صورتحال میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور انسانی حقوق کے اہم کارکن الطاف حسین وانی نے کہااگر بھارت نے ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی باشندوں کو آباد کرنے کی کوشش کی توبین الاقوامی قوانین کے تناظر میں کشمیری قوم تمام قانونی راستوں کے ذریعے مزاحمت کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو یقین ہے کہ پاکستان، امن پسند اقوام عالم، عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنان کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

بیرسٹر شعیب رزاق نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھارت کو کشمیر کے حالیہ معاملے پر چیلنج کرنے کے آپشنز کی وضاحت کی۔اور انہوں نے بھارتی سول سوسائٹی ممبران کے سامنے بھارتی سپریم کورٹ میں بھارتی حکومت کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کو چیلنج کرنے کیلئے بھی آپشنز پیش کیئے۔

یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی کامسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر پنپتی ہوئی سفارتکاری کے حوالے سے کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو عامیانہ اور غیر روایتی طریقے سے لیا گیا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بعد اس وقت ایک بار پھر مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔بالکل واضح طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارتی حکومت بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی پوزیشن کھو چکا ہے اور اسے اس معاملے پر تنہائی کا سامنا ہے۔اس تنازعے کی سات دہائیوں کے دوران کشمیر پر بھارتی تنہائی کی یہ سطح غیر معمولی ہے۔

الطاف حسین وانی نے کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں پر امریکہ اور چین کی حکومتوں کے مؤقف کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر پر او آئی سی کے ایک خصوصی ایلچی کی تقرری کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے منتظر ہیں کہ وہ کب جموں و کشمیر سے متعلق خصوصی ایلچی کی تعیناتی کو ممکن بناتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھی سراہتے ہیں، اب وہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اس تنازعے کو حل کرنے اور پاکستان، بھارت اور کشمیرمیں امن لانے میں تاریخی کردار ادا کرے۔

احمد قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیر کے اندر کی صورتحال کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے، ہم بھارتی حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں بھارتی آبادکاریوں اور بستیوں کو بنانے اور بھارتی شہریوں کو کشمیر کے آبادیاتی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کرنے سے باز رہے۔بھارتی حکومت کشمیر کے اندر بھارتی فوجیوں اور کیمپس کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی ہے وہ کشمیر میں بھارتی باشندوں کو آباد نہیں کر سکتی۔ کشمیریوں کی جانب سے بھارتی شہریوں کا ہمسائے کے طور پر خیر مقدم کیا جاتا ہے لیکن بھارتی آباد کار کشمیر میں ہمیشہ غیر ملکی ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبردستی بھارتی بستیوں کی آباد کاری ٹکراؤ اور تشدد کا باعث بن سکتی ہے اور بھارت کو اس قسم کے حالات پیدا کرنے سے باز رہنا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں