68

امریکہ ارسطو کو پہچان گیا

تحریر: نصرت جبین ملک

افلاطون کو کون نہیں جانتا ۔وہ اپنی اکیڈمی میں بادشاہوں، امراء اور وزرا کے بچوں کو پڑھاتا تھا ایک مرتبہ اسے ان بچوں کو پانی پلانے کے لئے ایک ملازم کی ضرورت پیش آئی ۔اس کے لئے اس نے ایک لڑکے کا انتخاب کیا ۔افلاطون کا یہ اصول تھا کہ جب وہ پڑھانا شروع کرتا تو اکیڈمی کے دروازے بند کر دئے جاتے تاکہ وہ پرسکون ماحول میں یہ سلسلہ جاری رکھ سکے ۔اس لڑکے کے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا، جب کسی کو پانی کی ضرورت پیش آتی تو وہ اندر جا کر پانی پلا آتا اور پھر باہر آ کر اور  سیڑھیوں پر بیٹھ کر بند دروازے سے اس کان پڑنے والی آواز کو غور سے سنتا رہتا تھا ۔سال کے آخر میں بچوں کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا تھا کہ کون تحصیل علم کے میدان میں آگے رہا ہے ۔اس سال بھی ایسا ہی ہوا۔ایک بڑی سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں امراء اور وزراء کی بڑی تعداد موجود تھی، افلاطون نے باری باری سب طلبہ کو سٹیج پر بلایا اور کسی عنوان پر  خطاب کا موقع فراہم کیا مگر جب وہ سٹیج پر آنے لگے اور کم علمی اور گھبراہٹ کی وجہ سے وہ زیادہ دیر جم کر نہ بول سکے تو افلاطون کے پسینے چھوٹنے لگ گئےاسےسمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس شرمندگی کا سامنا کس طرح کرے، آخر اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہ غریب لڑکا آگے بڑھا اور افلاطون کے پاس آ کر رک گیا اس نے بہت عاجزی سے کہا کہ “سر اگر آپ مجھے کوئی عنوان دیں تو امید ہے کہ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا”، اس کی بات سن کر وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا اور پھر حیران ہو کر بولا “یہ کیسے ممکن ہے کہ جب میں نے تمہیں تعلیم ہی نہیں دی تو تم میری اکیڈمی کی تقریب میں بول سکو “افلاطون کی بات سن کر اس نے احترام سے کہا “جی جناب یہ سچ ہے کہ آپ نے مجھے نہیں پڑھایا مگر مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے اس لیے میں آپ کے تمام اسباق کو باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر بغور سنتا رہتا تھا اور اپنی یادداشت میں سمو لیتا تھا اس لیے مجھے آپ کے تمام اسباق اچھی طرح یاد ہیں “بچے کی بات سن کر افلاطون سر جھکائے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ سٹیج پر آیا اور بولا کہ معززحاضرین یہ بچہ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس نے میرے لیکچرز بند دروازے کے باہر بیٹھ کر سنے اور یاد کئے ہیں مگر میں اس کی کوئی گارنٹی نہیں دیتا بحر حال وہ آپ کے سامنے آ کر آپ کی طرف سے دئیے گئے عنوانات پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہے تو آپ اس کی کم حیثیت کے باوجود اسے سٹیج پر آنے کا موقع دیں تاکہ اس کے سچ اور جھوٹ کا پتہ چل سکے “سب امراء نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے آنے کی اجازت دے دی ۔وہ لڑکا سٹیج پر آیا اور بغیر کسی جھجک کے دئیے گئے عنوانات پر دلائل کے ساتھ بولتا گیا ۔سب حیران تھے اور سب سے زیادہ افلاطون جس کے چہرے پر فاتح کی سی خوشی بھی تھی وہ سراٹھا کر سٹیج پر آیا اوربولا محترم حاضرین! یہ ثابت ہوا کہ کمی میرے پڑھانے میں نہ تھی بلکہ میرے طلبہ میں سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی جو مجھ سے پڑھنے کے قابل تھا اس نے میری بات کو باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر بھی سمجھ لیا “اس واقعہ کے بعد افلاطون نے اس بچے کو پڑھانے کا ذمہ لیا اور تاریخ اس کوآج ارسطو کے نام سے یاد رکھے ہوئے ہے ۔
امریکہ دنیا میں افلاطون کا کردار کئی عشروں سے نبھا رہا ہے ۔اس کردار کی وجہ سے وہ عراق، ایران، جنوبی کوریا، روس اور افغانستان میں کئی جنگوں کی صورت میں تقاریب کا، اہتمام بھی کر چکا ہے مگر جولائی 2019 میں جا کر اسے معلوم ہوا کہ وہ پانی پلانے والا شریف ،سیدھا سادہ اورخدمت گزار سا  لڑکاکس قدر اہم تھا کہ جسے ہر بار پانی پینے کے بعد باہر سیڑھیوں پر بٹھا دیا جاتا تھا ۔کبھی اس پر دہشت گرد ملک کا الزام عائد ہوتا،تو کبھی طالبان دوستی کا،کبھی اس کے پاسپورٹ کوشک کی نظروں سے دیکھا جاتا توکبھی اسے بھارت میں بدامنی کی وجہ ٹھہرا دیا جاتا تھا، کہیں اس کے ہوائی اڈے استعمال کئے جاتے تو کہیں اس کے طیارے ضبط کر لئے جاتے،کبھی وہ اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر افغان مہاجرین کو پناہ دے دیتا ہے تو اس کے اپنے شہریوں کے لیے اپنی ہی زمین تنگ کر دی جاتی ہے ۔
وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکہ میں درباری لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ برابری کی بنیاد پر بات چیت کی۔انہوں نے امریکی سرکار کو یہ باور کرایا کہ اب پاکستانی حکمرانوں کا یہاں آ کر ان کی قصیدہ گوئی کے راگ الاپنے کا وقت تمام ہو چکا ہے کہ جب بدلے میں  صرف قرضہ جات بھاری سود پر ملا  کرتے تھے اب ان کے لیے قربانیاں دینے کاقصہ بھی ختم ہو گیا بلکہ قربانیاں گنوانے کا وقت آگیا ہے ۔پاکستان  گدھ اورچیلوں کی سرزمین نہیں کے مردار کی تلاش کر کے پیٹ بھریں،یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں شاہین طاقت پرواز پکڑتے ہیں اونچی اڑان بھر کر آسمان کی وسعتوں سے آشنا ہو تے ہیں عمران خان کا اعتماد اس بات کی نشانی تھا کہ اس سیڑھیوں پر بیٹھ کر اپنی حیثیت اور مرتبہ کاماپ لینے والا بچہ اب اس قابل ہو چکا ہے کہ اکیڈمی کے اندر کی فضا کے لئے اجنبی نہیں رہے گا اور صرف کان پڑی آوازوں پر بھروسہ نہیں کرے گا بلکہ اپنی آواز  دنیا کو سنائے گا۔اس سے وہ افلاطون بنے نہ بنے مگر جلد ارسطو کا روپ ضرور اختیار کر لے گا ۔۔۔۔۔۔۔

تحریر میں بیان کیے گیے خیالات خالصتاً لکھاری کی ذاتی رائے ہیں۔ ادارہ راولپنڈی ٹائمز کا ان خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں