94

حج کو کسی قیمت پر سیاست کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے، خالد الفیصل

گورنر مکہ و سربراہ مرکزی حج کمیٹی شہزادہ خالد الفیصل نے خبردار کیا ہے کہ حج کو کسی بھی قیمت پر سیاست کا اکھاڑا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
الشرق الاوسط کو دیے گئے انٹرویو میں خالد الفیصل کا کہنا تھا کہ تمام سرکاری اور نجی حج ادارے خانہ کعبہ کے زائرین کے استقبال کےلیے پوری طرح سے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دنیا کے کسی بھی علاقے سے آنیوالے عازمیں حج کو خوش آمدید کہتا رہا ہے، امسال بھی خیر مقدم کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتارہے گا۔ سعودی عرب نے حج پر آنیوالوں کے آرام و راحت کے تمام انتظامات کر لیے ہیں ۔ ’سعودی عرب  پہنچنے سے لیکر روانگی تک ہر عازم حج کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا  اور ہر عازم حج کا استقبال اس کی شہریت اور قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک زائر کے طور پر ہی کیا جاتا ہے۔‘
خالد الفیصل کے مطابق ہرعازم حج کا استقبال اس کی شہریت اور قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک زائر کے طور پر کیا جاتا ہے۔
خالد الفیصل سعودی عرب کے سب سے اہم ، بڑے اور مقدس صوبے مکہ مکرمہ کے گورنر ہیں ۔ ان سے حج کی بابت متعدد سوالات کیے گئے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ حج موسم شرو ع ہونے سے پہلے انہیں کسی بات کی تشویش ہے؟ خالد الفیصل نے جواب دیا انہیں صرف اس بات کی تشویش ہے کہ مذہبی سفر کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ وہ حج کو مذہبی سیاحت کا نام دینے کے سخت مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرتا ہے اور یہ اس کےلیے اعزاز کی بات ہے۔
خالد الفیصل نے زور دیکر کہا کہ حج کو سیاسی نعروں یا کسی بھی قسم کے غیر مذہبی رجحانات کا اکھاڑا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خالد الفیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اور مرکزی حج کمیٹی میں ان کے رفقائے کار اور سرکاری حج ادارے اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر حج خدمات کو جدید تر اور معیاری بنانے کے لیے تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حج موسم ختم ہونے کے اگلے ہی ہفتے نئے حج موسم کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے ۔ قطری عازمین حج سے متعلق سوال کے جواب میں خالد الفیصل نے کہا کہ قطر سمیت دنیا کے ہر ملک کے عازمین  حج کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ ’سعودی عرب اس کا اعلان ایک سے زائد بار کر چکا ہے۔ مملکت نے قطری حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور قطر میں مقیم ان غیر ملکیوں کو حج کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں جو حج پر سعودی عرب آنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے حج کیلئے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی مہیا کر رکھی ہے۔ باقی ذمہ داری قطری حکومت کی ہے ۔
خالد الفیصل نے کہا کہ ایران سمیت تمام ممالک کے عازمین حج کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے ۔
ایرانی عازمین حج سے متعلق سوال کے جواب میں خالد الفیصل نے کہا کہ ایران سمیت تمام ممالک کے عازمین حج کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی استثنیٰ نہیں ۔ جہاں تک حج کوٹے کا تعلق ہے تو اس کا تعین تنہا سعودی عرب نہیں بلکہ مسلم ممالک مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ حج کوٹے کا نظام آبادی کے تناسب سے مقرر ہے۔ اس کا فیصلہ عمان کانفرنس میں مسلم وزرائے خارجہ کر چکے ہیں۔
خالد الفیصل نے توقع ظاہر کی کہ امسال 20 لاکھ سے زیادہ فرزندان اسلام حج کریں گے۔ 
خالد الفیصل نے مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ رائل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان نے اس کا سربراہ ولیعہد محمد بن سلمان کو مقرر کیا ہے۔ اتھارٹی نے مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ اورعرفات کے لیے متعدد نئے منصوبے تجویز کیے تھے جن کی منظوری شاہ سلمان نے دے دیدی ہے۔ ’ان کا جلد ان کا اعلان ہو گا اور فوراً ہی عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔‘ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں