71

قسط-2

جہانزیب منہاس
سفرنامہ

ترکی ائیر پورٹ چار گھنٹے گزارنے کے بعد پیریس روانہ ہوا تو جہاز میں سوار ہوتے ہی سو گیا جو کہ میں سمجھتا ہوں بڑی نعمت ہے کیونکہ اکثر احباب کو سنا ہے ان کو سفر میں نیند نہیں آتی خیر میں تو ایسا سویا کہ کہ بس فرانس پہنچ کر آنکھ کھلی جہاز سے اترتے ہی امیگریشن کی طرف گیا ۔ وہاں پہنچ کر ایک چیز دیکھنے کو ملی کہ اکثر ویزٹ ویزہ پر آئے لوگوں کو لمبے سوالات کا سامنا ہے جن میں سر فہرست 
کتنے دن کا سٹے ہے 
ہوٹل بکنگ کہاں ہے 
واپسی کا ٹکٹ دکھاؤ 
پیسے کل کتنے ساتھ لائے ہو ؟
ہمارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر شنجن ویزہ لگ گیا ہے تو اب خیر ہے کوئی بات نہیں اب ہم یورپ کے تمام ممالک سیر کرکے آئینگے تو ایسا نہیں آپ کو ایک قاعدہ قانون کے تحت چلنا پڑے گا 
سب سے پہلے آپ کے پاس جتنے دن ہوٹل رہنا ہے ہوٹل بکنگ ہونی چاہیے واپسی کا ٹکٹ اور ہر دن کے حساب سے 125 یورو بھی ہونے چاہیں اس بات کا خاص خیال رکھیں نہیں تو ائیر پورٹ سے ڈی پورٹ بھی ہو سکتے ہیں 
ائیر پورٹ سے باہر نکلنے کے بعد واش میں روم گیا صاف ستھرے واش روم مگر مسلم شاور کے بغیر والے گو کہ میں اس بات کے لیے تیار تھا کیونکہ گزشتہ برس روس میں بھی یہ حادثہ رونما ہو چکا تھا 
ائیر پورٹ پر ہی نیٹ بلکل مفت تھا نیٹ سے منسلک ہوتے ہی تمام احباب کے پیغامات اور کالز کا سلسلہ بندھ گیا سب سے اہم کال ہمارے پی ٹی آئی کے دوست چوہدری شہزاد کی لاہور سے تھی کیونکہ متوقع نہیں تھی واش روم میں ہونے کی وجہ سے کال مس ہو گئی تھی سو میں فوری طور پر شہزاد چوہدری کو کال بیک کی حال احوال معلوم کرنے کے بعد چوہدری صاحب نے بتایا کہ آج پی ٹی آئی فرانس نے ایک عید ملین پارٹی کا انعقاد کر رکھا ہے شام کو ادھر ضرور جانا اور ابھی آپ سے اہم ذمہ داران رابطہ کرتے ہیں ان کی کال کے بعد یاسر قدیر صاحب کی کال آئی اور انہوں نے دعوت دی اور کہا بھائی جی یہ آپ کے اعزاز میں پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے آپ کی حاضری ضروری ہے اور یوں ائیر پورٹ پر ہی رات کی بکنگ کنفرم ہو گئی 😝
اب اس سے آگے میرے محترم اور مہربان جناب ملک وجاہت کی محبت کا قصہ شروع ہوتا ہے ملک وجاہت اور میری ملاقات مدینہ المنورہ میں فقط پانچ منٹ کی ہوئی وہ بھی بلال بھائی کے کہنے پر مگر ملک وجاہت مہربان اور شفیق انسان اور میرے فرانس کے میزبان بھی ہیں انہوں نے ائیر پورٹ رسیو کیا اپنے رسیٹورانٹ لے کر گئے کھانا کھلایا اور پھر مجھے ہوٹل چھوڑا جو انہوں نے ہی بک کروا رکھا ہے میں نے آرام کیا نیند پوری کرنے کے بعد تھوڑی واک کی اور پھر ملک وجاہت صاحب کے کچھ دوست آ گئے ان کے ساتھ میں تحریک انصاف کی عید مِلن پارٹی میں چلا گیا جہاں تمام دوستوں نے پرتپاک استقبال کیا سٹیج پر بٹھایا اور مدینہ المنورہ کے حوالے تعارف کروایا خدا گواہ جب بھی کسی جگہ یا محفل میں مدینہ کی نسبت سے تعارف ہوتا ہے اپنے اندر ایک سکون محسوس ہوتا ہے خود اپنے آپ کو کہتا ہوں حضور میری تو ساری بہار آپ سے ہے ورنہ میری اتنی اوقات کہاں 
اسی پروگرام جناب نعیم شیخ کو پیرس کا نیا کوآرڈینیٹر بنایا گیا پارٹی کے تمام ممبران نے عید کی مبارکباد پیش کی اور پہلے دن پیرس میں مجھے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ میں پیرس میں ہوں یا اسلام آباد میں ۔ 
اس کے مجھے تقریر کا موقع دیا گیا سب احباب سے ملکر ایک ساتھ چلنے کی درخواست کی پاکستانی پاسپورٹ کی حرمت اور تقدس کا عہد لیا ۔ 
میڈیا کے بہت سارے دوست وہاں موجود تھے ہمارے علاقے کے معروف کاروباری ابرار کیانی صاحب سے ابھی ملاقات ہوئی اور واپسی پر ملک وجاہت صاحب  کے ہوٹل تک وہی ڈراپ بھی کرنے آئے ۔
ملک وجاہت صاحب کے پاس قوہ کا دور چلا جس میں اے آر وائے سے منسلک بابر مغل صاحب بھی موجود تھے اور یہاں میری ملاقات پی پی پی کے جیالے اور زندہ دل دوست مرزا عتیق صاحب سے ہوئی ساتھ ہی بہت ساری صلاحیتوں کے مالک جناب نعیم خان صاحب سے ملاقات ہوئی جن سے طے ہوا کہ صبح پیرس کی سیر وہ کروائینگے ۔ اس کے  بعد ابرار کیانی صاحب اور نعیم خان چلے گئے  بابر مغل صاحب اپنے گھر کو چل دئیے جبکہ مرزا عتیق صاحب نے عرب ملک سے آنے کی وجہ سے شیشہ خانے کا رخ کر لیا اور کافی دور ایک بڑے ہی عمدہ شیشہ خانے میں لے گئے وہاں دو گھنٹے بیٹھے سب احباب   نے بشمول میرے  شیشے کے مزے لیئے – اور پھر رات دو بجے میں نے درخواست کی کہ اب چلتے ہیں مگر میں نے کسی کو یہ نہیں بتایا کہ میں شیشہ نہیں پیتا مگر یقین کریں میں کسی کا دل دکھا نہیں سکتا ۔ اور خاص کر مرزا صاحب کے خلوص کے آگے تو میں بے بس سا ہو گیا تھا 
اس کے بعد ملک وجاہت اور بلال بھائی مجھے ہوٹل ڈراپ کر گئے اور اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ صبح گیارہ بجے پیرس کی سیر کی جائے گی انشااللہ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں