185

سفرنامہ -قسط -1

تحریر جہانزیب منہاس

خصوصی سلسلہ بشکریہ جہانزیب منہاس

قسط-۱

پہلے مدینہ المنورہ سے براستہ جدہ اپنی گاڑی چلا کر پہنچا چار گھنٹے کے سفر کی تھکاوٹ اپنی جگہ مگر اس بات کی فکر اپنی جگہ تھی کہ اگر سو گیا تو شاید پیرس والی فلائٹ بھی مس ہو جائے اس لیے مغرب و عشا کی نماز ادا کرنے بعد تازہ چائے کا کپ لینا مناسب سمجھا ۔ تھوڑی دیر بچوں کے ساتھ گزار کر تیاری کی اور رات گیارہ بجے گھر سے ائیر پورٹ کے لیے نکلے تو جی پی ایس والی ماسی نے غلطی سے نئے ٹرمینل کا راستہ بتا دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں انتہائی بد تہذیبی تھی خیر بڑی ہی مشکل سے واپس اپنے راستے پر نکلنے کے بعد پورے 12:05 منٹ پر ائیر پورٹ پر پہنچا کیونکہ میری فلائٹ براستہ ترکی پیرس تھی اس لیے میں پر جوش تھا کہ چلو اسلامی دنیا کے ایک بڑے شہر استبول کی ہوا بھی کھانے کو ملے گی جو آج سے پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا کہ اہل ترک شاید مکہ و مدینہ کے بعد سب سے بہترین لوگ ہیں 
بورڈنگ پر میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں چاہتا تھا سفر لمبا ہے سیٹ اچھی مل جائے اس لیے میں نے اپنے محترم بھائی جناب فرخ رشید سے درخواست کی اور انہوں قبول فرما کر ہمیشہ کی طرح شفقت کا مظاہرہ کیا اور اس طرح میں بورڈنگ کے مرحلے سے بخوبی پار ہو گیا اور مجھے مطلوبہ سیٹ بھی مہیا کر دی گئیں 
جہاز میں سوار ہونے کے بعد جب میں اپنی سیٹ پر پہنچا تو وہاں ایک ترکی بابا جی براجمان تھے ان سے درخواست کئ کہ آپ میری سیٹ پر بیٹھے ہیں پہلے تو ہانچ منٹ ان کو سمجھ نا آئی میں کیا کہہ رہا ہوں جب ساتھ بیٹھے نوجوان نے بتایا کہ یہ کہہ رہا ہے کہ آپ اس کی سیٹ پر بیٹھے ہیں تو بابا جی کافی جلال میں آ گئے مگر سیٹ میرے حوالے کر دی میں سیٹ پر بیٹھتے ہی سو گیا مگر اتنے میں شور کی آواز سنائی دی تو معلوم ہوا کہ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے مصری حضرات اپنا سامان جہاز میں بنے خصوصی خانے میں رکھنے پر راضی نہیں جبکہ ائیر ہوسٹ کہہ رہا تھا کہ آپ ایمرجنسی سیٹ پر بیٹھے آپ تو اپنے پاس موبائل فون تک نہیں رکھ سکتے مگر اہل مصر کی عادات سے ہم واقف ہیں وہ آرام سے تو بات مانتے ہی نہیں مگر پھر یکدم ترکی نوجوان میں اہلیان ترک کا وہی جلال جو کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں دیکھنے کو ملا اس نے سختی کا مظاہر ہ اور کہا سر آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں یا تو سامان مجھے دیں یا جہاز سے اتر جائیں ہمارا وقت ضائع نا کریں یہ کہنے کی دیر تھی مصری بھائیوں نے سامان حوالے کر دیا کیونکہ میں بھی ایمرجنسی گیٹ کے ساتھ بیٹھا تھا اسلئے مجھے بھی اپنا سامان اسے دینا پڑا مگر میں اسے کہا بھائی اس میں میرے پیسے بھی پڑے ہیں تو اس نے کہا جونہی سیٹ بیلٹ کا نشان ٹیک آف کے بعد بند ہو گا اپنا سامان واپس اٹھا لینا میں نے اس کا اور اس نے تعاون پر میرا شکریہ ادا کیا پھر مجھے سمجھ نا آئی میں کب سو گیا اور پھر کافی دیر بعد ہڑبڑا کر اٹھا اور سامان کی طرف لپکا جس کا مجھے یقین تھا کہ کسی نے اٹھا لیا ہو گا کیونکہ جب میں نے فضائی میزبان کو بتایا کہ اس بیگ میں میرے پیسے ہیں تو سب سن رہے تھے اور میں اس قدر تھک کر سویا تھا کہ مجھے احساس ہی نا رہا کہ متاع سفر والا بیگ میں اوپر رکھا تھا 😝
خیر میں نے سامان والا خانہ کھولا تو اس میں میرا سامان موجود تھا خدا کا شکر ادا کیا سامان اپنے سامان لیا اور پھر سو گیا اور دوبارہ میری آنکھ تقریباً لینڈنگ سے 45منٹ پہلے کھلی میں واش روم گیا ہاتھ منہ دھویا فریش ہوا کوئی کریم پرفیوم لگایا دانت صاف کئے تو اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا 
میں نے باہر دیکھا تو فرط جذبات سے میری آنکھیں اشک بار ہو گئیں میں نے بڑا خوبصورت منظر دیکھا کہ آسمان پر بادلوں نے واضح اللہ لکھا ہوا تھا جس کی تصویر درج ذیل ہے 👇👇👇
میں نے سوچا کہ پاک اور نیک لوگوں کی سرزمین پر جا رہا ہوں تو رب نے بھی کیسا معجزہ دکھایا ہے اللہ اللہ 
خیر لینڈنگ کے وقت پائلٹ نے کمال مہارت دکھائی اور رن وے پر دوڑتے طیارہ کو جب کرولا کی طرح موڑا تو پھر کسی اناڑی ڈرائیور کی طرح بریک لگائی تو میں سمجھ گیا کہ یا تو پائلٹ بہت ماہر ہے یا پھر آج ہی یوٹیوب سے سیکھ کر پائلٹ بنا ہے 
خیر جب جدہ سے سوار ہوا تھا جہاز کافی بلیک اینڈ وائٹ منظر پیش کر رہا تھا مگر ترکی تک میں تو سویا رہا مگر جہاز کے مسافر کافی بدل چکے تھے اب رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس عربی جوڑے بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے 
استنبول کے سبیا ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے بعد جب میں انتظار گاہ کی طرف بڑا تو سیڑھیاں چڑھتے ہی جس چیز پر پہلی نظر پڑھی وہ تھا بلیک لیبل ۔ جی ہاں بلیک لیبل وہی جس بوتل میں علی امین گنڈا پور نے شہد پیک کیا تھا ورنہ قسم خدا کی مجھے تو اس کے علاوہ شاید کسی شراب کا نام بھی نا آتا ہو ۔ 
ائیر پورٹ پر اپنی فلائٹ انفارمیشن دیکھنے کے لیے بورڈ پر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ امت کے حاضر سروس صلاح الدین ایوبی کے ہاں سے ہر دو گھنٹے بعد اسرائیل کے لیے جہاز اڑتا ہے 
اور شراب کی تمام دوکانوں پر امت عظیم کے سب اعلی راہنما کی بیٹیاں کفار و مشرکین کو شراب فروخت کرتی ہیں اور ساتھ اس کے فوائد اور فضائل بیان فرماتی ہیں خیر میں نے ایک حلال ناشتے کی جگہ تلاش کی پھر بھی حفظ ما تقدم فروٹ کا سلاد اور مالٹے کا تازہ جوس لیا اس سے ناشتہ کیا جب تھوڑی دیر ائیر پورٹ پر ٹہلنے کے بعد جب واش روم کی طرف گیا تو وہاں لائنیں لگی ہوئی تھیں جس بنا پر اپنا ارادہ ترک کرکے واپس انتظار گاہ میں آگیا ۔موبائل کا وائی فائی حکومت نے بند کر رکھا ہاں لیکن اگر آپ پندرہ یورو کی شراب لیتے ہیں تو آپ کو ایک گھنٹہ فری وائی فائی ملے گا ۔ باقی ائیر پورٹ وائی فائی دو گھنٹے کا آپ سے چار یورو مانگتا ہے مگر آپ کا کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ شاید قبول نا کرے جیسے میرا نہیں کیا ۔۔۔ یوں چار گھنٹے استنبول ائیر پورٹ پر انتہائی بوریت اور اسلامی خلافت کا جو بت میں اردگان کے لیے تعمیر کیا تھا اسے پاش پاش کرکے فرانس کے لیے روانہ ہو گیا ۔۔ 

۱ پہلے مدینہ المنورہ سے براستہ جدہ اپنی گاڑی چلا کر پہنچا چار گھنٹے کے سفر کی تھکاوٹ اپنی جگہ مگر اس بات کی فکر اپنی جگہ تھی کہ اگر سو گیا تو شاید پیرس والی فلائٹ بھی مس ہو جائے اس لیے مغرب و عشا کی نماز ادا کرنے بعد تازہ چائے کا کپ لینا مناسب سمجھا ۔ تھوڑی دیر بچوں کے ساتھ گزار کر تیاری کی اور رات گیارہ بجے گھر سے ائیر پورٹ کے لیے نکلے تو جی پی ایس والی ماسی نے غلطی سے نئے ٹرمینل کا راستہ بتا دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں انتہائی بد تہذیبی تھی خیر بڑی ہی مشکل سے واپس اپنے راستے پر نکلنے کے بعد پورے 12:05 منٹ پر ائیر پورٹ پر پہنچا کیونکہ میری فلائٹ براستہ ترکی پیرس تھی اس لیے میں پر جوش تھا کہ چلو اسلامی دنیا کے ایک بڑے شہر استبول کی ہوا بھی کھانے کو ملے گی جو آج سے پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا کہ اہل ترک شاید مکہ و مدینہ کے بعد سب سے بہترین لوگ ہیں 
بورڈنگ پر میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں چاہتا تھا سفر لمبا ہے سیٹ اچھی مل جائے اس لیے میں نے اپنے محترم بھائی جناب فرخ رشید سے درخواست کی اور انہوں قبول فرما کر ہمیشہ کی طرح شفقت کا مظاہرہ کیا اور اس طرح میں بورڈنگ کے مرحلے سے بخوبی پار ہو گیا اور مجھے مطلوبہ سیٹ بھی مہیا کر دی گئیں 
جہاز میں سوار ہونے کے بعد جب میں اپنی سیٹ پر پہنچا تو وہاں ایک ترکی بابا جی براجمان تھے ان سے درخواست کئ کہ آپ میری سیٹ پر بیٹھے ہیں پہلے تو ہانچ منٹ ان کو سمجھ نا آئی میں کیا کہہ رہا ہوں جب ساتھ بیٹھے نوجوان نے بتایا کہ یہ کہہ رہا ہے کہ آپ اس کی سیٹ پر بیٹھے ہیں تو بابا جی کافی جلال میں آ گئے مگر سیٹ میرے حوالے کر دی میں سیٹ پر بیٹھتے ہی سو گیا مگر اتنے میں شور کی آواز سنائی دی تو معلوم ہوا کہ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے مصری حضرات اپنا سامان جہاز میں بنے خصوصی خانے میں رکھنے پر راضی نہیں جبکہ ائیر ہوسٹ کہہ رہا تھا کہ آپ ایمرجنسی سیٹ پر بیٹھے آپ تو اپنے پاس موبائل فون تک نہیں رکھ سکتے مگر اہل مصر کی عادات سے ہم واقف ہیں وہ آرام سے تو بات مانتے ہی نہیں مگر پھر یکدم ترکی نوجوان میں اہلیان ترک کا وہی جلال جو کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں دیکھنے کو ملا اس نے سختی کا مظاہر ہ اور کہا سر آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں یا تو سامان مجھے دیں یا جہاز سے اتر جائیں ہمارا وقت ضائع نا کریں یہ کہنے کی دیر تھی مصری بھائیوں نے سامان حوالے کر دیا کیونکہ میں بھی ایمرجنسی گیٹ کے ساتھ بیٹھا تھا اسلئے مجھے بھی اپنا سامان اسے دینا پڑا مگر میں اسے کہا بھائی اس میں میرے پیسے بھی پڑے ہیں تو اس نے کہا جونہی سیٹ بیلٹ کا نشان ٹیک آف کے بعد بند ہو گا اپنا سامان واپس اٹھا لینا میں نے اس کا اور اس نے تعاون پر میرا شکریہ ادا کیا پھر مجھے سمجھ نا آئی میں کب سو گیا اور پھر کافی دیر بعد ہڑبڑا کر اٹھا اور سامان کی طرف لپکا جس کا مجھے یقین تھا کہ کسی نے اٹھا لیا ہو گا کیونکہ جب میں نے فضائی میزبان کو بتایا کہ اس بیگ میں میرے پیسے ہیں تو سب سن رہے تھے اور میں اس قدر تھک کر سویا تھا کہ مجھے احساس ہی نا رہا کہ متاع سفر والا بیگ میں اوپر رکھا تھا 😝
خیر میں نے سامان والا خانہ کھولا تو اس میں میرا سامان موجود تھا خدا کا شکر ادا کیا سامان اپنے سامان لیا اور پھر سو گیا اور دوبارہ میری آنکھ تقریباً لینڈنگ سے 45منٹ پہلے کھلی میں واش روم گیا ہاتھ منہ دھویا فریش ہوا کوئی کریم پرفیوم لگایا دانت صاف کئے تو اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا 
میں نے باہر دیکھا تو فرط جذبات سے میری آنکھیں اشک بار ہو گئیں میں نے بڑا خوبصورت منظر دیکھا کہ آسمان پر بادلوں نے واضح اللہ لکھا ہوا تھا جس کی تصویر درج ذیل ہے 👇👇👇
میں نے سوچا کہ پاک اور نیک لوگوں کی سرزمین پر جا رہا ہوں تو رب نے بھی کیسا معجزہ دکھایا ہے اللہ اللہ 
خیر لینڈنگ کے وقت پائلٹ نے کمال مہارت دکھائی اور رن وے پر دوڑتے طیارہ کو جب کرولا کی طرح موڑا تو پھر کسی اناڑی ڈرائیور کی طرح بریک لگائی تو میں سمجھ گیا کہ یا تو پائلٹ بہت ماہر ہے یا پھر آج ہی یوٹیوب سے سیکھ کر پائلٹ بنا ہے 
خیر جب جدہ سے سوار ہوا تھا جہاز کافی بلیک اینڈ وائٹ منظر پیش کر رہا تھا مگر ترکی تک میں تو سویا رہا مگر جہاز کے مسافر کافی بدل چکے تھے اب رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس عربی جوڑے بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے 
استنبول کے سبیا ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے بعد جب میں انتظار گاہ کی طرف بڑا تو سیڑھیاں چڑھتے ہی جس چیز پر پہلی نظر پڑھی وہ تھا بلیک لیبل ۔ جی ہاں بلیک لیبل وہی جس بوتل میں علی امین گنڈا پور نے شہد پیک کیا تھا ورنہ قسم خدا کی مجھے تو اس کے علاوہ شاید کسی شراب کا نام بھی نا آتا ہو ۔ 
ائیر پورٹ پر اپنی فلائٹ انفارمیشن دیکھنے کے لیے بورڈ پر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ امت کے حاضر سروس صلاح الدین ایوبی کے ہاں سے ہر دو گھنٹے بعد اسرائیل کے لیے جہاز اڑتا ہے 
اور شراب کی تمام دوکانوں پر امت عظیم کے سب اعلی راہنما کی بیٹیاں کفار و مشرکین کو شراب فروخت کرتی ہیں اور ساتھ اس کے فوائد اور فضائل بیان فرماتی ہیں خیر میں نے ایک حلال ناشتے کی جگہ تلاش کی پھر بھی حفظ ما تقدم فروٹ کا سلاد اور مالٹے کا تازہ جوس لیا اس سے ناشتہ کیا جب تھوڑی دیر ائیر پورٹ پر ٹہلنے کے بعد جب واش روم کی طرف گیا تو وہاں لائنیں لگی ہوئی تھیں جس بنا پر اپنا ارادہ ترک کرکے واپس انتظار گاہ میں آگیا ۔موبائل کا وائی فائی حکومت نے بند کر رکھا ہاں لیکن اگر آپ پندرہ یورو کی شراب لیتے ہیں تو آپ کو ایک گھنٹہ فری وائی فائی ملے گا ۔ باقی ائیر پورٹ وائی فائی دو گھنٹے کا آپ سے چار یورو مانگتا ہے مگر آپ کا کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ شاید قبول نا کرے جیسے میرا نہیں کیا ۔۔۔ یوں چار گھنٹے استنبول ائیر پورٹ پر انتہائی بوریت اور اسلامی خلافت کا جو بت میں اردگان کے لیے تعمیر کیا تھا اسے پاش پاش کرکے فرانس کے لیے روانہ ہو گیا ۔۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں