140

امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ کے بدلے شکیل آفریدی کی بات ہو سکتی ہے عمران خان

امریکی ٹیلی وژن چینل ’فوکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان  کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شکیل آفریدی کو پاکستان میں امریکہ کا جاسوس سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات دی جانی چاہیے تھیں کیونکہ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا اور اس کے لیے جنگ لڑ رہا تھا۔ ہمیں معلومات دی جاتیں تو ہم خود اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کرتے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی کارروائی سے پاکستان کو بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ’امریکہ نے ہمارے اوپر اعتماد نہیں کیا۔ اس بات پر پاکستان میں غصہ پایا جاتا ہے۔‘ 
اس سوال پر کہ کیا آفریدی کی رہائی پر بات ہو سکتی ہے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس پر بات ہو سکتی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی قید میں بھی ایک پاکستانی عافیہ صدیقی موجود ہیں، شاید عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بات چیت شروع نہیں ہوئی۔
اس سوال پر کہ اگر انڈیا اپنے ایٹمی ہتھیار ترک کر دے تو کیا پاکستان بھی ایسا کرے گا؟ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہاں، کیونکہ ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ایٹمی جنگ کا مطلب دونوں ممالک کی تباہی ہو گا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ڈھائی ہزار میل طویل سرحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس فروری میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور پاکستان نے انڈین طیارے بھی مار گرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑا مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ اسی لیے انہوں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ کردار ادا کریں، صرف امریکی صدر ہی مسئلہ کمشیر حل کرا سکتے ہیں۔
ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ طالبان صرف افغانستان کی حد تک محدود ہیں جبکہ داعش بڑا خطرہ ہے نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں