51

ٹرمپ پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات چاہتے ہیں : شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے بعد پیر کی شب پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ فریقین کے درمیان تین نشستوں پر محیط بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، تجارت، افغان امن اور کشمیر کے مسئلے پر ’بڑی اچھی اور کھل کر بات ہوئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت میں ہمارا مقصد یہی ہے کہ ہم پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں۔‘

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو دیکھا جائے تو ایک بڑا خلا موجود تھا۔

’پانچ برس تک اس سطح کا رابطہ نہیں ہوا۔ چاہے وہ کیپیٹل ہل پر راوبط ہوں یا انتظامیہ کی سطح پر ایک خلا پیدا ہو چکا تھا۔ اس خلا میں پاکستان کے ناقدین کو اپنا نقطہ نظر ہیش کرنے کا موقع ملتا تھا اور ایک یکطرفہ موقف سامنے آتا تھا

ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ پاکستان کے ساتھ عظیم تعلقات کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک نیا اور مختلف قسم کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔‘

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ دفاعی امور کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات تعطل کا شکار تھے اس لیے دفاعی امور پر بات چیت خوش آئند تھی۔

انھوں نے کہا کہ ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک صفحے پر ہے۔

وزیر خارجہ نے پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پچھلے پانچ برسوں میں اس قسم کی ملاقات نہیں ہوسکی اور نہ ہی پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ موجود تھا جس کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہو چکا تھا جس کی وجہ سے ناقدین کو سازشیں کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔

۔‘

امریکی صدر کی جانب سے کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’آج تک کسی امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرکے حل کی خواہش کا اتنا برملا اظہار نہیں سنا۔‘

اس سوال پر کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بارے میں ماضی میں بھی کئی امریکی صدور تعاون کی پیشکش کے ساتھ ساتھ اس کے حل پر زور دے چکے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوا، پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ایک عرصے سے تو کشمیر کا نام تک نہیں لیا جاتا تھا، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں دوبارہ جان آئی ہے۔‘ 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کی پیشکش کے بعد اس حوالے سے کوئی پیشرفت ہوتی ہےتو جنوبی ایشیا میں استحکام کا امکان پیدا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں