131

صدقے ماں دیا شیرپترا

صدقے ماں دیا شیرپترا باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری


رو رہا ہوں آنسو ہیں کہ تھمتے نہیں ہیں۔چیچہ وطنی کے گاؤں 109 بارہ ایل کا جوان سرفراز بارہ ایل کارہنے والا ماں کا شیربچہ باجوڑ ایجینسی میں دہشت گردوں سے لڑتا ہوا حق کے راستے پر چلا گیا۔اس کی آخری سانسوں کو اس کے ساتھیوں نے محفوظ کر لیا میں جدہ شارع صحافہ کے ایک فلیٹ میں بند اے سی کی طرف کنڈ کر کے نرم بستر پر بیٹھا بس رو ہی سکتا ہوں رو رہا ہوں لکھ رہا ہوں سرفراز کی آنکھیں مجھ سے سوال کر رہی ہیں کہ میرا خون کیوں لیاگیا۔
وہ کسی بیرونی دشمن کی گولی سے نہیں مرا اس کے قاتل اندر سے ہیں وہ لوگ ہیں جو باجوڑ جیسی ایجینسیوں میں پاک فوج کے خلاف ہتھیا ر اٹھائے ہوئے ہیں اس کے دشمن وہ ہیں جو صحافتی صفوں میں سیاسی پارٹیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں پشتینی دشمن صرف پی ٹی ایم میں نہیں ان کے بارے میں آگے چل کر بات کروں گا۔بات کیا کرنی ہے اس کے قاتل وہ ہیں جو ملک دشمنوں کے پروڈکش آرڈر کا مطالبہ کرتے ہیں۔میں پہلے سرفراز کی ہچکیوں اور اس کی آنکھوں کے سیاہ ڈوروں سے کی گئی باتیں تو کر لوں۔ یقین کیجئے میں اپنے آپ کو مجرم سمجھ رہا ہوں ایک ایسا مجرم جس کے ہاتھ میں قلم کی طاقت بھی تھی لکھنے کا فن بھی تھا جذبات بھی تھے اور احساسات کا ہمالہ بھی لیکن میں مدح سراء رہا سیاست دانوں کا میں نے تحریریں لکھیں تو اپنے لیڈر کی مدافعت میں ہی ستر کی دہائی کا لمبہ تڑنگہ راہی جو ایشیا کو سبز کرنے میں لگا رہا۔جو گو بھٹو گو سے گو مشرف گو اور بعد میں گو نواز گو میں مگن رہا میری ترجیحات کچھ اور رہیں۔لیکن اندر کا راہی زندہ ہے جس نے مشکل راہیں چنی تھیں۔پولی ٹیکنیک لاہور کا افتخار راہی۔ سرفراز نے مجھے کہا کہ تم شاعر بھی ہو لکھاری بھی لیکن منکر ہو اس دھرتی کی رعنائی کے تم انکاری ہو دھرتی ماں کے ذروں کی عظمت کے۔اس دھرتی کے جس دھرتی کی رعنائی پر وہ وقت بھی آتا ہے اکثر جب ماں کی ننگی چھاتی سے بچوں کے لئے رستا ہے لہو جب بہنوں کے آنچل سے کوئی بھائی کا کفن تیار کرے۔جب دوشیزہ کے ماتھے پر بندیا بھی زخم بن کر چمکے دہقان کو گندم کے خوشے دانوں کی جگہ سنگریزے دیں۔مزدور تڑپ کر رہ جائے جب فولادی آوازوں میں جب بند کلیوں کے کھلنے سے گلشن میں شرارے پیدا ہوں انسان ترس کر رہ جائے انسان سے جب ملنے کے لئے۔امجد کی یہ طویل نظم میرے ساتھ ہی جائے گی نظم تو زندہ رہے گی اس کا ایک پرستار چلا جائے گا۔ میں نے محسوس کیا سوچا کہ کیا لفظ لکھنے کے ہنر ان سیاست دانوں کے لئے استعمال کرو گے جو ان لفظوں کی سیڑھیوں پر چڑھ کے شارع دستور کے محلوں میں بیٹھ گئے چلیں یہ سفر کی کمائیاں انہیں مبارک مگر چیچہ وطنی کے گاؤں بارہ ایل کا سرفراز مرتے مرتے یہ سبق دے گیا کہ میں نے بیس ہزار کی نوکری کی تھی سوچا تھا ماں کا سہارہ بنوں گا مجھے مانی یاد آ گیا جس نے 502میرے گھر کو بنانے میں مدد کی شہہ زور ترکھا اگہرے جسم کا مانی جو دو سال میرے ساتھ کام کرتا رہا سب سے بھاری سب سے مشکل کام اس کے لئے آسان ہوتا تھا وہ میاں چنوں کا رہائشی تھا ایک وقت میں تیس اینٹیں اٹھا کر اپنی پشت پر لاد کر تیسری منزل پر چڑھ جاتا تھا ایک دن میں نے پوچھا مانی اتنی محنت کرتے ہو کیا زندگی ایسے ہی گزرے گی اس نے کہا سر جی دس جماعتیں پٹھرا ہوں فوج میں جاؤں گا۔کہا پولیس میں کیوں نہیں جاتے کہنے لگا سر میرے علاقے کے لیڈر پیسے لیتے ہیں فوج ایسا ادارہ ہے جہاں روٹی بھی ملتی ہے پیسے بھی ملتے ہیں جئے تو وردی میں عزت بھی ہے میڈیکل بھی ہے ماں ہے باپ تو چلا گیا ہے۔مانی اب فوج میں ہے اللہ اسے غازی ہی رکھے لیکن یہ باتیں اس لئے لکھی ہیں میں ان بے ضمیر صحافیوں کے لئے لکھ رہا ہوں اور ان وطن فروش سیاست دانوں کے لئے لکھ رہا ہوں جنہیں اس وردی کے پیچھے دہشت گردی نظر آتی ہے میں یہ کالم کسی ادارے کے لئے نہیں لکھ رہا ہوں ویسے بھی ان لوگوں کو کیا احساس کہ ان کا اپنا کون ہے اور ان کادشمن کون انہوں نے تو رپورٹیں دیکھنی ہوتی ہیں زندگی کی فائل میں اگر کوئی گندہ شخص آپ کی آواز کو دبانے کی کوشش میں کامیاب ہو گیا فائل میں لکھ دیا کہ اس نے میرے سامنے کھڑے ہو کر جمہوریت کی بات کی تھی میں جرنیل ہوں میں اس کی اس جرا ء ت پر اسے سرخ خانے میں ڈال رہا ہوں میں اسے جدہ کی جیل میں بند کر ا رہاہوں اور اسے رلا کے ماروں گا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا اس نے مجھے اور میرے بچوں کو رلا کے مارا ادھ موئا چھوڑ گیا میں ان معدودے چند لوگوں میں سے ہوں جو رل بھی گئے مگر انہیں چس بھی نہیں آئی۔ویسے چس تو انہیں ملتی ہے جو رلتے بھی نہیں چاہے وہ فردوس عاشق ہوں ندیم چن یا کوئی اور۔ہم نے کون سی دوائیاں مہنگی کی تھیں کہ کھڈے لائن لگا دیا اور بار بار ٹکٹوں سے محروم کیا۔کیا کسی مردود کے وہ الفاظ ت میرے لئے تو وہ باجوڑ ایجینسی کے دہشت گرد سے بھی دہشت گرد ہے جس نے میری ماں کو سسک سسک کر مرنے پر مجبور کیا کہ اکہتر دن کی جیل وہ بھی پردیس کی۔چھوڑئے ذاتی کہانی کو سوچئے کہ کیا سرفراز کا خون اور اس جیسے لاکھوں کا لہو رائیگاں جائے گا ہاں اگر ہم نے حامد میروں میر جعفروں اور ان جیسے منظور پشتیوں کو منظور کیا تو بلکل یہ تو بارہ ایل چک کے سرفراز کے خون سے غداری ہو گی میں سمجھتا ہوں پاکستان بنانے والے لاکھوں کا لہو بھی گیا رائیگاں گیا میجر عزیز بھٹی کا خون میجرطفیل گجراور لانس نائیک محفوظ کا خون بھی ٹکے ٹنڈ گیا۔
خدا را سوچئے حکومتیں آنی جانی ہیں اقتتدار دولت حسن جوانی نہیں رہتے سدا نہ ماں پے حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں۔سب چلا جائے گا رہے گا نام اللہ کا اور وہ سچ زندہ رہے گا جو سرفراز کے لہو نے باجوڑ میں لکھا ہے۔مشرقی پاکستان کے ساحلو پانیو تم نے شہدائے البدر کا خون بھی دیکھا ہو گا ان کی تیرتی لاشیں بھی دیکھی ہوں گی کیا خوب رشتہ بندھا ہے جڑا ہے کیا خوب ناطہ وہ ناطہ دھرتی کی محبت تھی اس دھرتی کی جو اللہ کے نام پر لی گئی تھی۔ مجھے صحافت کی شان جس کو پڑھ کر تحریک پاکستان کے دن یاد آتے ہیں جناب ضیاء شاہد نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ پڑھ لیجئے وطن کی مٹی جنت کی مٹی لگے گی مجھے وہ بوڑھا بھی یاد آ رہا ہے جس نے اپنے بیٹے کندھوں پر بیٹھ کے سوال کیا تھا پت پاکستان کناں دور آ۔مشرقی پنجاب کے اندھے کنووں میں پچاس ہزار سے زائد جوان بیٹیوں بہنوں کی لاشیں۔مہاجر کی بیٹی نے پوچھا با با مجھے کیوں اس کنویں میں پھینکتے ہو؟اس نے کہا یا جان یا عصمت کیا چاہتی ہو اس نے کہا با با جان تو سو سال بعد بھی دینی ہے مسلمان کی عصمت تو چادر فاطمہ ہے کوشش کرنا درمیان میں گروں کنویں کی دیواریں اینٹ پتھر کی ہیں درد ہو گا۔یہ تھی پاکستان کے لئے قربانی۔انجینئر عبدالرفیع مرحوم نے مجھے جدہ میں بتایا کہ پاکستان کیسے لیا تھا۔میرا جی چاہتا ہے میں پنجاب میوزیم سے رنجیت سنگھ کے مجسمے کو لات مار کے توڑ دوں اور وہاں ان مہاجروں کے نام ایک یاد داشت لکھ دوں۔ضیاء شاہد کی تحریر اپنی تحریر اور لکھ دوں قربانیوں کی داستاں اور لکھ دوں عنوان پاکستان کوئی سوکھا بنیا!۔میں اس باپ کو سلام پیش کرتا ہوں اس ماں کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے سرفراز جنا۔میں جنرل باجوہ سے درخواست کرتا ہوں ہر شہید کے لئے ایک ڈبہ رکھ دیں ایک اکاؤنٹ کھول دیں میں اپنا پیٹ کاٹ کے اس ماں کی نذر کچھ دینا چاہتا ہوں یہ قوم اس کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی دکھ بانٹ تو سکتی ہے۔حامد میر تمہیں کیا پتہ تمہارا ابا وارث میر عزت وطن بیچتا رہا پوچھ ے ہم سے کوئی جن کے عزیزوں نے کبھی جاوا سماٹرا میں قربانیاں دیں کبھی مشرقی پاکستان کے پانیوں میں قربان ہوئے تمہارے اباء و اجداد میر جعفر میر صادق میر وارث تھے تم کیا جانو ایوب گجر کو کومیلا سیکٹر میں کیسے شہادت نصیب ہوئی۔
بے شرمو ان کا سوچو جن کے نصیبوں میں بچوں کی قبریں بھی نہیں ہوتیں۔میرا چا چا بخش اسے روتا روتا مر گیا وانا میں میری بھانجی کا بیٹا جس کے دن رکھے جا چکے تھے وہ مایوں بیٹھنے اپنے کیمپ سے نکلا تھا اس کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرائی اور وہ آدھے جسم کے ساتھ خون کی سرخی لئے جنڈی پہنچا۔ شہید سراج رئیسانی کے راستے پر گئے ہیں آپ اورکئی گمنام راہوں میں مارے گئے کچھ وانا سے کچھ باجوڑ سے اور کچھ کراچی کی بوریوں میں آئے۔نلہ دیکھا ہے جنڈی ببھوتری درکوٹ برکوٹ کبھی سرمہ لگائے بغیر ان راستوں پر آؤ عباسی گجر اعوانوں کی قبریں بتائیں گی کہ پاکستان کیا ہے؟رہنے دیں میر صاحب اچکزئی صاحب ہمیں علم ہے کہ آپ کون ہیں کیا چاہتے ہیں حکومت نے اثاثوں کا حساب مانگا تھا لڑائی تو نہیں مانگی تھی۔قوم نے لٹیروں کی قید مانگی تھی رہائی تو نہیں مانگی تھی۔
پکڑ لو مجھے بھی کر لو جو کچھ کرنا ہے۔میں حیران ہوں اس چینل کے ساتھ پی ٹی آئی کی دو رخی محبت پر ۔عزت پر ہاتھ بھی ڈالتا ہے اور محبت بھی اسی سے کی جاتی ہے اسے ہی جپھی ڈالتے ہیں،بھائی جان بھی بڑے نرم لہجے میں فرماتے ہیں تشریف رکھئے صافی صاحب بیٹھئے میر صاحب۔یہ کون ہیں لوگ جو سروں پر بھی بٹھائے جاتے ہیں گود میں بھی اور کم ظرف اور کمینوں کی عادت بھی یہی ہے عزت دو گے ذلت پیش کریں گے۔گود میں بٹھاؤ گے تو داڑھی نوچتے ہیں۔
انہی لوگوں نے اس کی ریش کا بال بال نوچا۔کبھی مجیب کی شکل میں کبھی غفار خان کے روپ میں کبھی میر حامد اور لفافی کی شکل میں مجھے اور کچھ نہیں چاہئے شبر صاحب حساب مانگ رہے ہیں دیں ناں حساب میں نے بھی دیا تھا نوٹس مجھے بھی ملا تھا لیکن اللہ کا کرم ہوا میرا حساب مجھے مل گیا میں نے الراجحی بینک سے لیا میرا حبیب بینک مجھے نہ دے سکا۔لوگ کہتے ہیں وکیل لالچی ہوتے ہیں سعید اینڈ کمپنی سکس روڈ راولپنڈی نے کہا آپ قلمکار ہیں آپ کے لئے مفت اور اللہ نے کیا میاں شفیق کی محنت سے مجھے چھٹکارا ملا جناب حامد میر جناب انصار عباسی محجبہ عاصمہ شیرازی حساب دیں ناں اگر رزق حلال تھا تو حساب حلال بھی دیں۔گاجریں اگر نہیں کھائیں تو پیٹ میں مروڑ کیوں؟ذراسوچئے۔ایک بلوچ ہماری صفوں میں آیا انجمن تاجراں کی قیادت سنبھالی اب صرف حساب مانگنے پر ارشد عباسی کو ساتھ لے کر سڑکوں پے ہے ارشد عباسی اس کا ساتھ چھوڑیں۔یہ پہلے بھی نون لیگیا تھا اب بھی ہے تحقیق کر لیں یہ کسی کے اشاروں پر ناچ کر بازار بند کرانے کی کوشش میں ہے اسی طرح ایک شر بھی ہے جو جیل کی چیز ہے وہ بھی بازار بند کرانے میں لگا ہے۔یہ کسی غریب کے نہیں کسی سرفراز کے نہیں کسی شہید کے وارث کے نہیں یہ میاں تیرے جاں نثار ہیں۔انہیں پتہ ہے کہ رجسٹر ہو گئے مارے جائیں گے۔کوئی پچاس ہزار روپے سے اوپر سودا لیتا ہے تو اس سے شناختی کارڈ کی کاپی مانگی ہے۔کون ہے وہ غریب جو پچاس ہزار کا یک مشت سودا خریدتا ہے؟ٹیکس نیٹ میں آنا ہو گا۔ایک دن کی دکان بند کر لیں یا ایک ماہ کی،حساب دینا ہو گا۔بے صبرے لوگ تلی پر سرسوں دیکھنا چاہتے ہیں۔غریب مزدورو ابھی تو رخ ہونا ہے ان خرکاروں کا جو ٹریننگ کے نام پر انٹرشپ کا سہارا لے کر مزدور کو تین ہزار روپے ماہوار دیتے ہیں اور ہر دو ماہ بعد نکال دیتے ہیں کہ کہیں پکا نہ ہو جائے اللہ سے ڈرتے نہیں جوان بیٹے مر جاتے ہیں لیکن رحم نہیں کھاتے
یہ حساب دینے کا موسم ہے چپ چپیتی ٹھنڈی لسی اور تخم ملنگاں پی کر لاحاصل میں مصروف ہے اس کا مربی نواز شریف نواز شریف کا یار مودی اور مودی کا بھائی نیتن یاہو۔کیا سرفراز کا خون نیتن یاہو پر ڈالا جا سکتا ہے جی ہاں اس پر کے اس نے اللہ کے نام پر حاصل کردہ ملک کو تباہ و برباد کرنا ہے یہ سازش کوئی چھوٹی سازش نہیں ہے چک نمبر بارہ ایل کے میرے بچے تیری کالے ڈوروں والی آنکھوں کی قسم یہ قوم تمہارا ندی ہرو کی طرح بہتے پانی کی طرح خون کا بدلہ لے گی رحمت علی اقبال اور قائد اعظم کے چاہنے والے تمہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔کاش کوئی ایسا بھی ملے جو گیاں نوں موڑ لیاوے تمہیں واپس لا کر ہم بھی پوچھتے کہ مانی کی طرح بیس ہزار کی نوکری کے لئے اپنی
jaree haiy

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں