65

سٹکوس کو داد دیجئے

نصرت جبین ملک

1642 کواس  کا کسان باپ بیمار ہوا اور انتقال کر گیا۔اس کی پیدائش باپ کے انتقال کے دو ماہ بعد ہوئی۔ابھی وہ دو سال کا تھا کہ اس کی ماں بار نامہ نے ایک مالدار شخص سے شادی کر لی ۔باپ کی محبت سے محرومی ارماں کی دوسری شادی نے اسے بچپن سے ہی عدم توجہی کا شکار بنا دیا ۔ماں کی بے توجہی اور دوسرے باپ کے برے سلوک نے اس کی شخصیت کے خول کو چھلنی کر دیا یہی وجہ ہے کہ جب وہ ٹین ایج میں داخل ہوا تو بہت زیادہ غصیلہ، نالائق اور پر تشدد ذہن کا حامل تھا ۔اس کی شخصیت اور مزاج کو کبھی کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی ۔جب اس کی ماں اسے نظرانداز کر کے اس کے سوتیلے بہن بھائیوں کی طرف توجہ دیتی تو اس کا وجود دکھ کی تپش سے جھلس جاتا تھا ۔جب اسے سکول داخل کروایا گیا تو وہ اپنی کلاس کا نالائق ترین طالب علم قرار پایا ۔پرنسپل نے اس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں نکما اور نالائق لکھے لیکن اس کے باوجود وہ خود کو کتابوں کی طرف مائل نہ کرسکا ۔چنانچہ اس کی ماں نے دوسرے شوہر کی وفات کے بعد اسے سکول سے اٹھوا لیا اور جائیداد کے کام پر لگا دیا لیکن کچھ دنوں بعد اس نے ثابت کر دیا کہ اس طرح کے کاموں کے بھی وہ اہل نہیں ہے۔اس کے ایک رشتے کے چچا نے اس کی والدہ کو قائل کیا کہ وہ اسے پڑھائی میں پھر سے ڈالیں تاکہ وہ مصروف ہو کر آوارہ گردی سے چھٹکارا پا سکے اسے سکول میں پھر سے داخل کروا دیا گیا یوں وہ اٹھارہ سال کی عمر میں اپنے سے بہت چھوٹے بچوں کے ساتھ پڑھنے لگا اس کے چچا ولیم نے اس کے لئے ایک قابل استاد سٹکوس کا انتخاب کیا چچا کا یہ فیصلہ اس کی زندگی میں بہت اہم ثابت ہوا ۔سٹکوس انسانی نفسیات کو سمجھنے والا زیرک استاد تھا ۔اس نے اس بگڑے ہوئے انتہائی نالائق لڑکے کو پڑھانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں ۔اس نے اسے ریاضی اور فزکس کی تعلیم دی اور اس کےشخصی نقائص  کو بھرپور توجہ سے دورکرنے کی کوشش کی پھر انہیں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے اس نے ٹرینٹی کیمرج میں داخلہ لیا اپنے کلاس فیلوز سے عمر میں بڑا ہونا اس کے لئے شرمندگی کی بات تھی ۔تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اس نے کالج میں ہی چھوٹی سی نوکری کر لی کالج کے طالبعلموں کی خدمت کی وجہ سے کالج کی انتظامیہ اسے الاؤنس دیتی تھی ۔اب زندگی کے تین عشرے دکھ میں گزار نے کے بعد قدرت اس پر مہربان ہو چکی تھی، تاریخ اس کے نام کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر زندہ رکھنے کے لیے بےتاب تھی، تبھی اس کے زرخیز ذہن نے وسعت اختیار کی ۔اس نے “پرنسیپا میتھمیٹا  “نامی ایک کتاب لکھی جس میں کشش ثقل کو ایک عالمی قوت کہا جو دنیا کی تمام اشیاء پر اثر انداز ہوتی ہے اس انکشاف نے سائنسی دنیا میں تہلکہ مچادیایہ وھی عظیم انسان ھین کہ جنہوں نے حرکت کے قوانین بناےسائنسی تاریخ میں انکا نام صفحہ اول پر سر ائزک نیوٹن کے نام سے موجود ہے یہ ایک شخص کی حیات کا مختصر عکس تھا جو اس وقت اگر کشش ثقل اور حرکت کے قوانین کے بند درکھول کرانسان پر اسکی حقیقت عیاں نہ کرتا تو آج دنیا سائنس کے میدان میں سو سال پیچھے ہوتی ہم میں سے ہر شخص نیوٹن کے نام وکام سے آگاہ ہے اگر کبھی اخبار پر اس کی تصویر نظر آ ئے تو ہم چند لمحوں کے لیے انتہائی غور اور قابل تحسین نظروں سے ضرور دیکھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسکے مقام سے واقف ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اٹھارہ سال تک ناکام رہنے کے بعد نیوٹن کو کونسے سرخاب کے پرلگ گئے کہ وہ دریافت کی سب سے بلند چوٹی پر جا بیٹھا اسے بچپن کے نا ہموار حالات سے نکال کر اعتماد دینے والا،صحیح سمت راہنمائی کرنے والا،اس کے ذہن پر لگے زنگ آلودتالے کو کھولنے والاسٹوکن ہی تو تھا نیوٹن کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسے سٹکوس جیسا  استاد میسر آیا جس نے اسے حقیقی نیوٹن بنایادوسرے اساتذہ کی طرح نالائق قرار دے کر سکول سے بھاگنے پر مجبور نہیں کیا جس پر نسپل نے اسکی سالانہ کارکردگی رپورٹ نالائق کے الفاظ سے لکھی یقینی طور پر وہ نیوٹن کو کامیاب دیکھ کر اپنی رائے  پر شرمندہ ضرور ہوا ہو گوادر اسکے بعد ضرور یہ عہد کیا ہو گاکہ اب وہ کسی طالب علم کی نفسیات کو سمجھے بغیر حصول  علم نااہل قرار نہیں دیں گے ایسے ہی ایک عہد کے ہمارے  اساتذہ کو ضرورت ہے جو اپنا فرض صرف پڑھانا سمجھتے ہیں جن کی عدم توجہ ہی سے نہ جانے کتنے طالب علم مایوس ہو کر گھر کی راہ دیکھ چکے ہیں اور نجانے کتنے ایسے ہیں جو گھر اور سکول کے ماحول سے بیزار ہو کر اپنی توانائیاں ملک دشمن سرگرمیوں میں صرف کر رہے ہیں ہمارے وطن کے تعلی،می اداروں کو بھی سٹکوس جیسے اساتذہ کی ضرورت ہے ۔سٹکوس کے بارے تفصیل سے پڑھا تو دل سے دعا نکلنی “”یا اللہ ہمیں نیوٹن نہیں چاہئیے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ کہیں والدین کی چیخ و پکار سے لرز کر کوئی نیوٹن گھر میں سہما رہتا ہے کہیں سکول میں عدم توجہی کا شکار ہو کر راہ منزل بھول جاتا ہے ۔آج کل ہمارے تعلیمی ادارے تمام سہولتوں سے آراستہ ہیں، اچھی اور ڈیموکریٹک بلڈنگز ہیں ،سمعی و بصری معاونات کی فراہمی ہے ،گیٹ پر ہوشیار  سےچوکیدار الرٹ کھڑے ہیں ۔اعلی تعلیم یافتہ اورموٹے چشموں والے اساتذہ موجود ہیں مگر سٹکوس جیسے اساتذہ سے ہمارے تعلیمی ادارے خالی پڑے ہیں ہمارے بیشتر اساتذہ کا کام سکول ٹائمنگ پوری کر کے اپنی دھاڑی کھڑی کرنا ہے اسی وجہ سے ہم تعلیمی میدان میں باقی ممالک سے پیچھے ہیں اور ہمارے بیشتر بچے سکول کے نام مناسب ماحول اور اساتذہ کے خشک رویوں کو وجہ سے سکول چھوڑ دیتے ہیں۔

نوٹ: اس کالم میں تحریر کردہ خیالات کالم نگار کی مکمل طور پر ذاتی رائے ہیں۔ اور ادارہ راولپنڈی ٹائمز کا تحریر کردہ خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں