23

چین کے صنعتی شعبوں کی منافع کی شرح تجارتی کشیدگی کے باوجود مستحکم

(خصوصی رپورٹ):۔ چین کے حالیہ جاری اعدادوشمارکے مطابق ملک میں اقتصادی صورتحال استحکام کی جانب گامزن ہے، گزشتہ کچھ مہینوں سے جاری چین اور امریکہ کے مابین جاری تجارتی کشیدگی کے باوجود چین کی مقامی مارکیٹس نے مثبت معاشی استحکام کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کیئے ہیں، اور مقامی سطع پر اور بین الاقوامی سطع پر ان کمہنیز نے اپنے کاروباری ماحول کو مثبت قرار دیتے ہوئے بہتری کے اعدادوشمار سے متصل کیا ہے، گزشتہ ہفتے 27جون کو چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹیکس کیا جانب سے جاری اعدودشمار کے مطابق چین کی صنعتی پراڈکٹس سے متعلق بیشتر کمپنیز نے حالیہ سال کے حوالے سے مثبت اعدوشمار پیش کیئے ہیں، صنعتی پیداوار سے متعلق ان صنعتی کمپنیز کی سالانہ آمدن کی شرح 20ملین یوآن سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اور مئی کے مہینے میں ریکارڈ کے مطابق ان صنعتی کمپنیز کے سالانہ منافع کی شرح میں 1.1فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کی مجموعی شرح 3.7فیصد ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ حالیہ صنعتی کمپنیز کے منافع کے حوالے سے چین کے بینک آف مواصلات ماہرِ اقتصادیات لیو ژیوشی کیمطابق چین کے صنعتی سیکٹر میں حالیہ چند مہینوں کے دوران ماضی کے برعکس مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، اور ماضی کے مقابلے میں حالیہ چند مہینوں کے دوران چین کے صنعتی کمہنیز کے منافع کی شرح میں ایک ایک مثبت رجحان کے ساتھ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ ان صنعتی پراڈکٹس سے متعلق کمپنیز کے منافع کی شرح میں ماضی کے مقابلے میں منافع کی شرح کم ہے تاہم یہ اضافہ ایک مثبت پیش رفت سے بڑھ رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے مانچ مہینوں کے دوران ان کمپنیز کیمنافع کی شرح میں 2.3فیصد اضافے کی شرح کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ اور سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران اس منافع کی شرح میں 3.2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ رواں سال کے مہینے دو مہینوں کے دوران اس کی شرح14فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صنعتی شعبوں سے منسلک دیگر کمپنیز کے بنیادی منافع کی شرح میں بھی ایک تسلسل کیساتھ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں الیکٹرونکس مینوفیکچرنگ سے متعلق انڈسٹریز کے بنیادی منافع کی شرح میں 19.7فیصد تک اضافی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مئی تک جاری رپورٹ کے مطابق کوئلے کی کان کنی سے متعلق انڈسٹری کے منافع کی شرح بیس فیصد سے زائد رکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت کی جانب سے اضافی ٹیرف کے بعد سے بیشتر چائینیز کمپنیز کے مینوفیکچرنگ سیکٹرنے کامیابی سے اکنامک ٹرانسفورمیشن کی جانب خود کو تبدیل کر لیا ہے۔ اور بڑے پیمانے میں بنیادی عوامل کی ایکسپورٹ کے حوالے سے لائحہ عمل کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور پراڈکشن کو دیگر اعلی کوالٹی عوامل سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی جدت پرازی کے باعث بھی بیشترچائینیزکمپنیزنے اپنی پراڈکٹس کو اعلی پیمانیکی مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان پراڈکٹس کے چونکہ عالمی سطع پر متبادل موجود نہیں ہیں اس لیے اضافی ایکسپورٹ ٹیرف سے ان پراڈکٹس پر کوئی خاطر خواہ اثرات نہیں ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے چین کیایگریکلچرل یونیورسٹی کے کالج برائے اکنامکس اینڈ مینجمنٹکے پروفیسرلئیچونڈنگ کا کہنا ہے کہ چائینیزکمپنیزنے اپنی پراڈکٹس کے بہترکوالٹی معیار کے باعث مستحکم مارکیٹ ویلیو حاصل کرلی ہے جس کیباعث ان کے مارکیٹ ویلیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ پراڈکٹس کے منافع کی شرح میں رواں سال چھ فیصد سے زائد کا منافع ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو گزشتہ چند مہینوں کے مقابلے میں پندرہ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ اسی طرح سے دیگر تیزی سے ابھرتی صنعتوں کے بنیادی منافع کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح سے صنعتی اپگریڈیشن کے بعد سے چین کی بیشتر مقامی مارکیٹس امریکی مارکیتس کے برعکس دیگر عالمی مارکیٹس کی جانب بھی تیزی سے رسائی ھاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اس حوالے سے مشرقی چین کے سوبے ژیجیناگ کی بڑیمارکیٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ پوٹینشل کو مدنظر رکھتے ہوئے تیزی سے دیگر عوامل کی جانب اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور ان مارکیٹس کے ساتھ انہیں بہتر امپورٹ صورتحال نظرآرہی ہے۔ اسی طرح سے جنوری سے مئی تک کے حوالے سے جاری ڈیٹا کے مطابق چین کے جنوبی صوبے ہینان میں تجارتی ڈیٹا سب سے تیز رفتارء سے بڑھا ہے۔ اورپورے چین کے مقابلے میں یہاں پر تجارتی اضافے کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈکیاگیا ہے۔اور چین کے گوانگڈونگ صوبے میں مجموعی تجارتی حجم سے سے زیادہ 2.71ٹریلین ریکاڑڈ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ژانگٹی ریسرچ سینٹر کے ماہرِ اقتصادیاتیانگ ثانگ کا کہنا ہے کہ چین کی صنعتی پروان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کم شرح منافع کی وجہ سے اگرچہ کچھ مسائل کا سامنا ہے اور کچھ کمزور مارکیٹ عوامل کیوجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ٹیکناکوجیکل جدت پرازی کے سبب یہ عوامل تیزی سے استحکام کی جانب گامزن ہیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں