24

چین اور افریقہ کے مابین ای۔کامرس کے سبب نئے مستحکم روابط کا آغاز

                چین اور افریقہ کے مابین ای۔کامرس کے سبب نئے مستحکم روابط کا آغاز

(خصوصی رپورٹ):۔ افریقن کمپنیز چین کے ساتھ نئے تجارتی ماڈل کے تحت ای کامرسکے شعبوں کو تیزی سے فروغ دینے میں کامیاب ہوا ہے اس ھوالے سے گزشتہ ماہ جون میں چین اور افریقی ممالک کے مابین ای کامرس کے حوالے سے اکنامک اینڈ ٹریڈ ایکسپو کا انعقاد مرکزی چین کے صوبے ہونان کے دارلحکومت چانگسا میں ہوا، اس ایکسپو میں چین اور افریقی کمہنیز کے مابین ای کامرس کے حوالے سے باہمی روابط کو بھر پور فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی تجارتی روابط کا آغاز 2008سے ہوا اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی تجارتی روابط تیزی سے بڑھرہے ہیں۔ اور چین آج افریقی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی تجارتی امور ای کامرس کے بڑھنے سے اقتسادی روابط کو مزید مستحکم انداز میں لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ مئی میں چین کی Alibabٹریدنگ کمپنی کی جانب سے روانڈا کیساتھ الیکٹرونک ورلڈ ٹریڈ پلیٹ فارم قائم کرنے کے حوالے سے معاہدہ طے کیا گیا، اس حوالے سے چین میں تعین روانڈا کے سفیر چارلس کیونگا کا کہناہے کہ چین اور افریقی ممالک کے مابین ای کامرس کے معاہدات سے دونوں براعظموں کے مابین ورلڈ ٹریڈ پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ پیداواری اور تخلییق صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ ای کامرس کسی طور پر بھی کوئی ایسا گولی نہیں کہ اس سے ایک ہی وقت میں آپ کے تمام تر مسائل حل ہو جائیں، تاہم ای کامرس کے شعبے کی ترویج سے افریقی ممالک چین کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے کے حوالے سے بیشتر مسائل کو کامیابی سے حل کر سکتاہے۔ تجارتی مسائل کے حل کے حوالے سے ہمیں پیداواری اور مینوفیکچرنگ سے متعلق بیشتر مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ اورای کامرس کے سبب ان بیشتر مسائل کا کامیابی سے حل نکالا جا سکتا ہے، اور ای کامرس کے شعبے کی ترویج سے افریقی کمپنیز تیزی سے چین میں اپنا اثرورسوخ بڑھا سکتی ہیں۔ اس حوالیسے ایک بین الاقوامی ڈیویلپمینٹ مشاورتی فرم Reimaginedکے سی ای او ہنا رائیڈر کا کہنا ہے کہ انکی کمپنی نے ھالیہ چند سالوں کے دوران چین اور افریقی کمپنیز کے مابین بڑھتے ای کامرس کے ترویج کو دیکھتے ہوئے اپنے کاروباری عوامل کو افریقی ممالک تک پھیلانے کا عزم کیا ہے، اور اس طرح کے عوامل سے چین اور افریقی ممالک کے مابین تجارتیء عوامل میں تیزی سے اضافہ ہوگا، اور باہمی روابط سے دونوں ممالک کے مابین ترقیاتی مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ رائیڈر نے مزید واضح کیا کہ بیشتر افریقی ممالک ابھی تک چین کی بڑی مارکیٹ سے کیا فواہد اٹھا سکتے ہیں اس حوالے سے عوامل کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور ابھی بھی افریقی کمپنیز کو چین میں موجود ترقیاتی مواقعوں سے فاہدہ اٹھانے کے لیے مزید علم رہنمائی کی ضرورت ہے، اس ضمن میں ای کامرس ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے سے منسلک مواقعوں کی تلاش کے حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اور اسی پلیٹ فارم کی بدولت بیشتر افریقی کمپنیز چائینیز سارفین کی توجہ حاصل کر نے میں کامیاب ہو رہی ہیں اور انکے ترقیاتی مواقعوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ Maxhosaجنوبی افریقہ میں کلاتھ برانڈ کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھتا ہے، ان بڑی ساتھ افریقی کمہنپنیز مین شمار ہوتی ہیں جو چین اور افریقیہ کے مابین باہمی تجارتی روابط سے فروغ پا رہی ہے، اور یہ کمنپنی ای کامرس اور سوشل میڈیا کی وساطت سے تیزی سے افریقی اور چین سارفین کی توجہ اور مارکیٹ ویلیو حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، اس حوالے سے کمپنی کے پبلک ریلیشن عہدیدار نے کہا کہ انہیں جب پہلی مرتبہ چین جانے کا اتفاق ہوا تو انہیں احساس ہوا کہ کیسے انکی ای کامرس کے حوالیسے Wechatایک بڑے پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے، چین میں ہر جگہ سارفین روڈز پر اور ٹرین میں اس ایپ کا ستعمال کرتے نظر آتے ہیں اور ہم آسانی سے سیکھ سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سارفین تک اپنی پراڈکٹ کو اس ایپ کی مدد سے پہنچا جا سکتا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ اگر ای کامرس کی مدد سے افریقی کمپنیز ایک فیصد سارفین تک بھی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو مجموعی تجارتی حجم کئی ملین کروڑ تک باآسانی پہنچ سکتا ہے۔ یہ کمپنی Xhosa کی طرز پر چین میں اپنے نیٹ ورک کو فعال کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے، اور اپنی پراڈکٹس کو نوجوان چینی نسل تک پہنچا کر چین میں اپنی مارکیٹ کی گرفت کو مضبوط کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اور فعال ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں