49

صدر پاکستان کے طوطے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

صدر پاکستان کے طوطے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری


رات کو جدہ پہنچا ہوں اس شہر بے مثال میں فاتحانہ واپسی تھی کوئی چار سال بعد یہاں آیا پہلی بار ۲۰۰۲ میں یہاں سے جبری رخصتی ہوئی مشرف کا دور تھا طاقت کے مراکز کوئی اور تھے خو ایسا تھا کہ شہر کی گلیوں کے مکیں چاپ سنتے تھے تو لگ جاتے تھے دیوار کے ساتھ
آج کے پھنے خان دبک گئے تھے کچھ دربار کے چمچے بن گئے ہاتھ میں قلم ضمیر اس پھٹیچر سی بلڈنگ میں بیچ چکے تھے قیمت بچے کی نوکری چہ ارزاں فروختند آندھی اور طوفان میں جھک جانے والے درخت ہی بچتے ہیں سنا تو یہ تھا لیکن جھلے لوگوں کو کیا پتہ ڈٹ جانے والوں کی قلمیں بنتی ہیں اور کبھی کبھی تختے بھی جو آمروں کی قبروں پر پڑتے ہیں۔مشرف گیا ہم بڑی شان سے اسی ملک میں لوٹے ۹۰۰۲ کا وہ سال کیا مہربان سال تھا اور اپنی مرضی سے ۳۱۰۲ میں پاکستان چلے گئے۔مہربان احسن رشید اور قائد عمران خان نے ۲۱۰۲ میں کہہ دیا تھا اب پاکستان آؤ۔صحافی عبدالوحید سے پوچھئے گا کہ جاوید ہاشمی اسد عمر کے ہوتے ہوئے خان نے کیا کہا تھا۔انہی دنوں کی یادیں ہیں بلکہ صدر پاکستان جناب عارف الرحمن علوی سے تو ۷۰۰۲ سے جڑی یادیں ہیں۔ایک صاحب کراچی سے آیا کرتے تھے سپر مارکیٹ کے سامنے والے دفتر میں ایل لیپ ٹاپ لئے عارف علوی سب سے پہلے پہنچے ہوتے سردیوں کے دنوں میں اجلی دھوپ میں میں نے کئی بار سی ای سی کے ممبران کی تواضح کے لئے کینو کھالئے عارف بھائی کہتے ہمارے چودھری بھائی کینو ڈپلو میسی سے کام چلاتے ہیں اعادا و شمار کے ایکسپرٹ ڈاکٹر علوی سے یوں بھی ایک لگاؤ تھا کہ وہ ڈینٹسٹ تھے اور میرا بیٹا بھی ڈینٹسٹری پڑھ رہا تھا۔سادہ حلیم الطبع ڈاکٹر علوی کو یقین جانئے ان طوطے کے پنجروں سے کوئی سرو کار نہیں
ایوان صدر کی جانب سے جاری اس ٹینڈر کو ان کی لا علمی میں دے دیا گیا۔اب میرے قارئین کہیں گے کہ افتخار صاحبپ پارٹی کے ہر بڑے کی غلطیوں کا دفاع کرتے ہیں۔جی ہاں اس لئے کرتا ہوں کہ جس شخص کو گزشتہ بارہ سال سے ان گننت مرتبہ دیکھا ہے جانچا ہے پرکھا ہے اس کی عادات سے واقفیت ہے تو گواہی تو دینا ہو گی۔میرٹ میں ۳۱۰۲ میں جب پرویز خٹک سیکرٹری جنرل کا چارج لیتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کی سیٹ پر بیٹھے تو وہ نیچے اتر آئے اور ایک کونے پے کھڑے ہو گئے میں نے انہیں بلایا اور اپنی سیٹ کے ساتھ شیئر کرایا۔میں نے کہا ڈاکٹر صاحب یہ کیا بد لحاظی ہے دو منٹ پہلے آپ بڑی سیٹ پے تھے اور اب کوئی پوچھتا نہیں ان کے یاد گار اور تاریخی کلمات یاد ہیں کہنے لگے اس کے باوجود ہم بہترین ہیں۔مسلم لیگ اور نون اور پیپلز پارٹی سے کہیں بہتر۔
جناب صدر پاکستان کا یہ جملہ مجھے آج بھی حوصلہ دیتا ہے۔جب کبھی حوصلہ کمزور پڑتا ہے تو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں۔پٹھان بچے نے تو ویسے ہی کہا پیچے دیکھو پیچے دیکھو لیکن میں جب حقیقی معنوں میں پیچھے دیکھتا ہوں تو ڈاکٹر صاحب کا دیا گیا حوصلہ کام آتا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے گونگے ترجمان جو پتہ نہیں کہاں سے اٹھا کر کہاں بٹھا دئے ہیں جناب وزیر اعظم پر جب پتھر پھینکے جاتے ہیں تو ان گونگے پہلوانوں پر غصہ تو آتا ہی ہے جی چاہتا ہے جا کر پوچھوں کے یہاں کس لئے آئے ہو۔مجھے کئی اینکرز پرسنز نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں بتایا کہ وہ کیا کہتے ہیں تو سچ پوچھیں جی روتا ہے۔
میں نے جب ان طوطے کے پنجروں کے متعلق کہانی کو جاننا چاہا تو واٹس ایپ گروپ میں اس کی تشریح دیکھی جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جناب صدر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ٹینڈر واپس لے لئے گئے ہیں۔
ہماری اور ماضی کی حکومت میں فرق یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر غلطیاں کرتے تھے اور اس پر ڈٹ جاتے تھے وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسوں کے اخراجات اگر سامنے لائے گئے تو آپ حیران ہو جائیں گے ہمارا یہ ہے کہ ہم سے نادانی میں غلطیاں ہوتی ہیں۔نواز شریف کے چیلوں نے جان بوجھ کر ختم نبوت بل میں ترمیم کی ہمارے وزیر اعظم نے کم علمی میں جنگ احد کے صحابہ کے بارے میں الفاظ کا غلط چناؤ کیا۔
ماضی میں زرداری کے گھوڑوں کے تذکرے بھی یاد ہوں گے جس کے بارے میں انور مسعود نے ایک قطعہ کہا تھا
دعا کرتا تھا کوئی ٹانگے والا خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر
اگر بخشا ہے گھوڑا تو نے مجھ کو تو سیبوں کا مربہ بھی عطا کر
اس قوم کو عمران خان نے اتنا شعور دیا ہے کہ اس کے صدر کی جانب سے بھی کوئی غلطی ہوتی ہے تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اپنی بی بی زر تاج گل نے ایک خط لکھا جس میں بہن کی سفارش کی تھی تو اسے اس کا جواب مل گیا سنا ہے جناب ریاض فتیانہ نے بھی کچھ ایسی ہی غلطی کی ہے ظاہر ہے سوشل میڈیا ان کے گریباں تک بھی پہنچے گا۔
ان منسٹروں اور کچے عہدے داروں کو سمجھ آ جانی چاہئے کہ تحریک انصاف کے اپنے ہی انہیں گرفت میں لے لیں گے لہذہ صرف محطاط نہیں چوکنے ہو کر رہیں۔کوئی بھی غلطی اب مواخذے سے نہیں بچ پائے گی۔
قارئین کچھ تھوڑا سا وقت انہیں بھی دیں بیوروکریسی میں بیٹھے لوگ بڑی ہشیاری سے ان سے غلطیاں کرائیں گے اور ان ناتجربہ کار لوگوں سے ایسے کام کرائیں گے جو پوری پارٹی کے لئے باعث ندامت ہوں گے۔زرتاج گل کی غلطی اپنی جگہ لیکن اس خط کا میڈیا کے ہاتھ لگنا بھی تو ایک غلطی تھا۔میڈیا ہاؤسز کو دھماکہ خیز غلطی کی تلاش رہتی ہے اور اور ایسی ہی غلطیوں سے ٹی آر پی بنائی جاتی ہے ظاہر ہے عمران خان نے ایون فیلڈز کے فلیٹ یا سرے محل تو نہیں بنانے اور نہ ہی اس کی ٹیم کے نعیم الحق نے اسحق ڈار کی طرح دبئی میں پلازے بنانے ہیں تو پھر ایسے میں زرتاج گلیاناہ غلطیوں ہی بڑی خبر ہوں گی
عارف علوی کو نہ طوطے اور نہ ہی ان کے پنجروں کی ضوررت ہے۔اس ٹینڈر کو روائتی ٹینڈر سمجھئے جو پچھلے دور حکومت میں عام تھا
قارئین محترم پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے مشکل دنوں سے نکل رہا ہے یہی وہ دن ہیں جب سارے مل کر اس حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے۔ایک جانب مولان فضل الرحمن کوشش میں ہیں کہ وہ مذہبی طاقت کو عمران خان کے سامنے لا کھڑا کریں مگر انہیں معلوم نہیں کہ مذہبی سیڑھی ان کے نیچے سے سرکا لی گئی ہے جامعہ حقانیہ جامعہ سراجیہ نظامیہ اہل حدیث دیو بند اور بریلوی مکاتیب فکر کے لوگ نور الحق قادری نے کمال ہشیاری سے ان کے نیچے سے نکال لئے ہیں ہمارے دوست مولانا قاسم قاسمی کا کام بھی قابل داد ہے۔جس حکومت نے محرم کی چھٹی کر دی حضرت عمر کے یوم شہادت کو تسلیم کیا علماء کو وظائف دئے مساجد کو سولورائزاڈ کیا نوجوان علماء کی تنظیم بنائی وسیع عباسی کامران جیسے دورہ ء حدیث مکمل کرنے والوں کو پی ٹی آئی نارتھ میں ذمہ داریاں دیں کیا ان کی حمائت نہیں کی جائے گی۔کوئی کارڈ نہیں چلے گا نہ سندھ کارڈ نہ علماء کارڈ اور نہ ہی وکلاء کارڈ
وکیل جانتے ہیں کہ جب ان کی تحریک چلی تھی تو پاکستان کی دو جماعتیں ایسی تھیں جو ان کے ساتھ کھڑی ہوئیں جن میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف شامل تھیں
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں ۸۰۰۲ میں اجلاس جاری تھا کوئی کہہ رہے تھے کہ بائکاٹ کریں کوئی اس کے بائکاٹ کے خلاف تھے۔ایسے میں عمران خان نماز کے لئے اٹھے مصلے پر بیٹھے عمران خان سے کہا کہ خان بائیکاٹ کریں وکلاء ہمارے ساتھ ہیں اور ہے ہی کون؟کہنے لگے افتخار نواز شریف بائیکاٹ نہیں کرے گا میرا کہنا تھا اس سے کیا فرق پڑتا ہے حامد خان اور ہم چند لوگ بائیکاٹ کے حق میں تھے اور وہی ہوا پی ٹی آئی نے ولاء کے لئے بائیکاٹ کیا سروے بتا رہے تھے کہ پی ٹی آئی صوبہ سرحد سے جیت رہی تھی۔میرا سوال وکلاء سے علی احمد کرد اپنے ساتھی سے ہے یہ وقت بدلہ اتارنے کا ہے ہمارا ساتھ دو اور ہر اس کرپٹ کے خلاف ڈٹ جاؤ جو چاہے جج ہو وکیل ہو عالم دین ہو یا عام سیاست دان۔
جناب صدر آپ سے بھی درخواست ہے اپنی منجی تلے بھی سوٹہ ماریں اور دیکھیں کون ہے ایسا جو آپ کو بدنام کر رہا ہے اپنے پیارے دوست اور چھوٹے بھائیوں جیسے دوست علی اعوان سے بھی کہوں گا کہ ہشیار رہیں۔اگر آپ کے دائرہ کار میں ہے تو اس پر نظر رکھیں۔ہر وہ ٹینڈر اعلان اس وقت تک میڈیا میں نہ جائے جب تک اس کی تحقیق نہ ہو۔بیوروکریسی جد وی کریسی مندا کریسی کو لگام دیں سیاسی گروپ تشکیل دیں بلا معاوضہ سہی جو صدر پاکستان کے اس قسم کے معاملات کو دیکھے مگر خدا را اس طرح کے مہاشے مت چن لینا جو پی ایم ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔اللہ نے کرے اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو یہ لوگ اپنے پرانے گھو نسلوں کو لوٹ جائیں گے۔صدر محترم آپ بھی اسلام آباد میں ہیں وہی اسلام آباد جہاں ہم بھی رہتے ہیں کینو کھائیں ہیں تو عید پر لڈو ہی کھلا دیتے مگر دیکھ رہا ہوں کہ تاجروں کے گروہ میں وہ شخص آپ سے بغل گیر ہو رہا تھا جو ٹاک شوز میں مجھ سے دست و گریباں تھا قیصر کیانی نے مجھے بتایا کہ صدر صاحب سے شرجیل میری مل رہا تھا کمال ہے۔یہ لسٹ کون بناتا ہے۔
میں قارئین آپ کو بلاد حرمین جدہ سے بتا رہا ہوں کہ عارف علوی کو نہ طوطوں کا شوق ہے نہ ہی پنجروں کا۔۔علوی کے ہاتھوں کے طوطے اس خبر سے تو اڑ گئے ہوں گے کہ وہ لاکھوں کے پنجرے بنوا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں