217

سعودی حکومت کا بڑا فیصلہ حج و عمرہ کمپنیوں کی شامت خاص کرپاکستانی آپریٹرز کی مشکل میں اضافہ زائرین خوش

سعودی وزارت حج و عمرہ نے معتمرین کو فراہم کی جانے والی خدمات میں کوتاہی پر عمرہ کمپنیوں کے خلاف قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سات کمپنیوں پر مشتمل ادارہ قائم کیا ہے جو خلاف ورزیوں کا جائزہ لے کر عمرہ کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے گا۔
سعودی اخبار الاقتصادیہ کے مطابق معتمرین کی شکایات کا جائزہ لے کر ان کے فوری ازالے کی کارروائی کی جائے گی۔ 
وہ کمپنیاں جو اپنے معتمرین کو رہائش یا ٹرانسپورٹ کی مقررہ خدمات رہائش اورٹرانسپورٹ کی فراہمی میں کوتاہی برتی ہیں ان پر فی معتمر 100 ریال کے حساب سے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ قانون کے مطابق خلاف ورزی کی مرتکب کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ جرمانے کی رقم ایک ہفتے کے اندر جمع کرائیں۔
جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں کمپنی کی زر ضمانت جو وزارت حج و عمرہ میں جمع ہوتی ہے سے رقم کاٹ لی جائے گی کمپنی کی پروفائل کو ییلو زون میں مارک کر دیاجائے گا جس کے بعد کمپنی کی کارکردگی کو مستقل ’واچ‘ کیا جائے گا، دوبارہ خلاف ورزی ریکارڈ ہونے کی صورت میں اسے ریڈ زون مارک کیا جائے گا۔

عمرہ کمپنیوں کی ذمہ داری کیا ہے

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے معتمرین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی غرض سے ’عمرہ پیکیج‘ کا نظام برسوں سے جاری ہے جس کے تحت سعودی عرب میں قائم عمرہ کمپنیوں کےلیے لازمی ہے کہ جدہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آفس ہوں جہاں متعین عملہ مقررہ قوانین کی تحت آنے والے معتمرین کو بہترخدمات مہیا کرنے کا پابند ہے۔
قانون کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والی عمرہ کمپنیوں کے اہلکار بیرون ملک سے عمرہ پیکیج کے تحت آنے والے معتمرین کو جدہ حج ٹرمنل سے وصول کر کے انہیں مکہ مکرمہ میں مقررہ رہائش پر پہنچانے کے پابند ہیں۔ 
معتمرین کو پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق مقررہ سہولتوں کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی مقامی عمرہ کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ مکہ مکرمہ میں مقررہ ایام کے قیام کے بعد معتمرین کو مدینہ منورہ لے جانا۔ مدینہ منورہ سے واپس مکہ مکرمہ اور بعدازاں معتمرین کو حج ٹرمنل پر پہنچانا کمپنی کے ذمہ ہے۔

خلاف ورزیاں کیا ہیں؟ 

قوانین کے مطابق عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں اس امر کی پابند ہوتی ہیں کہ معتمر کے پیکج میں درج خدمات مقررہ معیار کے مطابق فراہم کریں۔ اگر کوئی کمپنی مقررہ پیکیج کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معتمر کو اس معیار کا ہوٹل فراہم نہیں کرتی جو معاہدے میں درج ہے تو یہ خلاف ورزی شمار ہوگی۔ معتمرین کو’ایئر پورٹ سے ایئر پورٹ تک‘ کی خدمات فراہم کرنے میں کوتاہی برتنا سنگین خلاف ورزی شمار کی جائے گی۔ 

معتمرین شکایت کہاں درج کرائیں؟

ایوان شاہی کی جانب سے وزارت حج و عمرہ کو اس امر کی خاص ہدایات دی گئی ہیں کہ معتمرین اور عازمین حج کو کسی قسم کی شکایت نہ ہو ۔ ان ہدایات کی روشنی میں وزارت حج کی جانب سے نگرانی کا جامع پروگرام مرتب کیا ہے ۔ جدہ حج ٹرمنل پر وزارت حج کا ذیلی دفتر قائم کیا گیا ہے جہاں اہلکارہمہ وقت متعین ہوتے ہیں۔
اگر ایئر پورٹ پر کمپنی کا نمائندہ نہیں آتا تو معتمر کو چاہیے کہ وہ حج ٹرمنل پر قائم وزارت کے ذیلی دفتر میں موجود اہلکار سے رجوع کرے۔
مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں اگر کمپنی کی جانب سے مقررہ معیار کی رہائش فراہم نہیں کی جاتی تو معتمر کو چاہیے کہ وہ مسجد الحرام کے اطراف میں جبکہ مدینہ منور ہ میں مسجد نبوی کے قریب قائم وزار ت حج و عمرہ کے شکایت کاﺅنٹرزسے رجوع کر کے انہیں مطلع کرے۔
رہائش کے حوالے سے شکایت درست ہونے کی صورت میں کمپنی اس امر کی پابند ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر معیاری رہائش فراہم کرے۔ 
 وزارت حج کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ عمرہ کمپنیاں مقررہ خدمات فراہم کرنے کی پابند ہیں معتمرین کو چاہیے کہ وہ جائز شکایات پر کسی قسم کا تردد نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں