46

بات پڑوسی کی

نصرت جبین ملک

پاکستان اور بھارت دونوں مسائل میں گھر ےممالک ہیں جن کے ہاں بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، بےروزگاری، بدامنی اور لاقانونیت سمیت بہت سے مسائل کا راج ہے۔ یہاں وسائل موجود ہیں مگر کبھی ان کی تقسیم پر تو کبھی ان کے استعمال پر اختلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک ترقی پذیر ممالک کہلاتے ہیں یعنی ایسے ممالک جو ترقی کے خواب آنکھوں میں بسائے انکی تکمیل کی طرف جانے والے راستوں کو ہموار کر رہے ہیں۔ ان کا اہم مسلہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے اور اس مسلے کا شکار زیادہ تر لوئر کلاس ہے ۔جن کا کل اثاثہ ان کے بچے ہوتے  ہیں اس لئے یہ اس اثاثے کو بڑھنے سے نہیں روکتے ۔یہ بچے غربت کی گود  سےجنم لیتے ہیں، در در کی ہوا کھا کر بڑے ہوتے ہیں، زمانے کی ستم ظریفی کی چھت تلے پلتے ہیں پھر پوری زندگی مشقت کی چکی میں پستے رہتے ہیں جہاں شدید محنت کے باوجود اجرت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ملتی ہے ان ممالک میں جرائم کی بڑی وجہ بےروزگاری ہے جن افراد کے پاس روزگار نہیں پھر بھی پیٹ کی آگ انکے دامن سے وابسطہ ہے، دماغ پر خواہشات کا خنجر بھی چلتا ہے اور اپنی حسرتوں کا زور لہو بھی پیتے ہیں ۔خاندانی  اور معاشرتی ذمہ داریاں معصوم بچے کی طرح روز ان کا دامن پھرتی اور اپنی تکمیل کی ضدکرتی ہیں ایسے میں وہ کبھی چور، ڈاکو اور جیب کترے بن جاتے ہیں، کبھی بھکاری یا منشیات فروش یا پھر ان لوگوں کے ہتھے چھڑ جاتے ہیں جو بھاری رقم کے عوض ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کر لیتے ہیں۔

 یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے “بیٹا پڑوسیوں سے بنا کر رکھنی چاہیے کیونکہ غم و خوشی میں آپ کے رشتہ دار بعد میں آتے ہیں مگر پڑوسی پہلے آ جاتے ہیں وہ خوشی کا لطف بڑھاتے ہیں تو دکھ میں ہمدردی کرتے اورحوصلہ دیتے ہیں” شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے اس پڑوسی سے  بنا کر رکھنے کی کئی بار کوشش کر چکا ہےاسے مذاکرات کی میز پر مسلہ کشمیر سمیت تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے  رہا ہے لیکن بھارت اپنی  “میں “سے نہیں نکل رہا وزیراعظم مودی  تو ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف رہے ہیں۔ جب وہ صوبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ان کے دور میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا وہ اب بھی ہندوستان کو اسی نہج پر لے جانا چاہتے ہیں وہ شائداپنے کٹر روئیے کی وجہ سے نہیں جانتے کہ ایک ملک کے سربراہ کی گردن میں اگر انا کا سریا پڑ جائے  تو وہ اس عہدے کے قابل نہیں رہتا کیوں کہ سریے والی گردن میں کسی بھی معاملے میں خم پیدا نہیں ہو سکتا۔ مودی صاحب کا بے لچک رویہ کہاں اندازہ لگا سکتا ہے کہ انسان انمول ہےخواہ  وہ ہندوستان کا ہو،پاکستان کا یا پھر  جموں کشمیر کا اور جنگیں انسانوں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ پھر انا کا بے لگام گھوڑا باقی  رہ جاتا ہے  اور املاک، انسان اور اطمینان ہر شے کی  نفی ہو جاتی ہے۔

ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کالم میں تحریر کردہ خیالات لکھاری کی ذاتی رائے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں