89

جنگ و جدل، امن و امان او رمحبتوں کو تقسیم کرنے والا

ڈاکٹرعمرانہ مشتاق  
imranamushtaq786@gmail.com

ہندو بنیا جانتا ہی نہیں کہ مسلمان کی سب سے بڑی خواہش جس کی تکمیل کے لئے وہ دعا کرتا ہے وہ شہادت کی موت ہے اور اس کے لئے وہ بستر مرگ پر مرنے سے بہتر میدان کارزار میں لڑتے لڑتے شہید ہونے کو ترجیح دے گا مگر ہندو بنیا رات کے اندھیرے میں جارحیت کر رہا ہے اور ہماری پاک فوج کے جوان بالکل تیار کھڑے ہیں۔ اس دفعہ یہ جنگ نہیں اللہ کا عذاب ہوگا جو آنِ واحدمیں لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کے وجود کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دے گا۔ ہمارا ہمسایہ ملک اپنی بدطینتی کے ہاتھوں مجبوربھی ہے اور تذبذب کا شکاربھی ہے۔ اس دو گونہ عذاب میں وہ ایک عرصہ سے مبتلا ہے۔ وہ فیصلہ کن جنگی پوزیشن میں نہیں ہے اس کی زبان لرزش کرتی ہے اور اس کے پاؤں لڑ کھڑا رہے ہیں ۔ اس حالت میں بڑے سے بڑا بہادر دشمن بھی حملہ نہیں کرتا مگر ہندو بنیئے کی مکاری اور عیاری کا پورا زمانہ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پہل کی اور بُری طرح مارکھائی ہے ۔آج بھی اُس نے بالا کوٹ کے مقام پر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بم گرائے ہیں اور یہ رات کے اندھیرے میں بزدل ہندو بنیئے کا آج کا نہیں پرانی عادت ہے۔ اب وہ پاک فوج کے حیران کن جواب کا انتظار کرے وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے۔اب وہ پاکستان کی فضا میں 21منٹ ٹھہر کر دکھا دے ہم اُس کے پرخچے اڑا دیں گے۔اس وقت جنگ کی دھمکیوں پر بھارتی معیشت تباہ ہورہی ہے اور کھربوں کا سرمایہ نکل گیا ہے۔اس وقت بھارتی میڈیا پر نام نہاد حملے کی جو ویڈیو دکھائی جارہی ہے وہ تین سال پرانی ہے۔ مقبوضہ کشمیر پاکستان کے حق میں نعرے لگارہا ہے اور اُس کی صدائے بازگشت دلی اور کلکتہ میں بھی سنائی دی جارہی ہے۔ 65 کی جنگ جو 17 روزہ تھی ہندو بنیئے کو ستر روزہ محسوس ہوتی تھی اور وہ اس سے جان چھڑانے کے لئے جنگ بندی کی پیش بندی کرتاتھا ۔ آج بھی جو صورتحال ہے وہ پہلے سے بہت مختلف ہے۔ ہماری افواج پاکستان اپنی پوری توجہ حالت جنگ پر مرکوز کیے ہوئے ہے اور بھارتی اذکار رفتہ جرنیلوں اور عدلیہ کے ججوں کے جو تجزیے آرہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہیں ۔ وہ اپنی حکومت کو سمجھا رہے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ ٹکر لینے کا ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ اندرون بھارت لوگ جنگ کے خلاف صف آرا اور کشمیر میں کشمیری بھارت کے خلاف کھڑے ہیں اس لئے اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت ایسی حماقت کرے گا۔ بالا کوٹ کی طرف سے بھارتی طیاروں کی آوازوں کی باز گشت سنی گئی ہے اور وہ گھبراہٹ میں اپنا اسلحہ بھی پھینک گئے ہیں ۔ مسلمان پہلے حملہ نہیں کرتے اس لئے پہل ہندوستان اگر کرے گا تو وہ انشاء اللہ منہ کی کھائے گا۔ 
گذشتہ روز تحریک انصاف کے شعبۂ ثقافت و کھیل کے مرکزی صدر عمر خیام کی سرپرستی میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر اجمل نیازی نے کی اودو درجن کے قریب شعرا کرام نے اپنا کلام سنایا ۔ آخر میں جواں سال عمر خیام نے اپنے خطاب میں شعرائے اکرام کے کلام کو بے پناہ پسند کرتے ہوئے تبدیلی کے آثار شاعری کے ذریعے آنے کا عندیہ دیا ۔ شعرائے کرام کو سہولت اور ضرورت کے اسباب فراہم کرنے کا بھی اعلان ہوا۔ اس موقع پر کینیڈا ، بیلجیم ، آسٹریلیا اور لند ن سے آئے ہوئے شعراء نے بھی اپنے کلام سے محظوظ کیا۔ خاص طور پر کینیڈا میں تحریک انصاف کی ترجمان آسمہ وارثی او رملتان سے تانیہ بیگم نے مترنم کلام سنایا۔ بینا گوئندی، توقیر شریفی، نشو بیگم، حسین مجروح، طاہر ساون، وسیم عباس، دختر بولان عذرا مرزا، ریحانہ اشرف اور زرقا نسیم نے اپنے کلام سے محفل کو بیدار کر دیا آخر میں صدر ذی وقارڈاکٹر اجمل خان نیازی نے نثری خطاب فرمایا اور عمر خیام کو روائتی سیاستدانوں سے جدا محسوس کیا اور اس کی خصوصیات کی تعریف کی۔ عمر خیام نے بھی اپنے استاد ڈاکٹر اجمل نیازی کی تشریف آوری کو اپنے شعبہ ثقافت اور کھیل کیلئے اعزاز سمجھا۔ ثقافت اور کھیل کے شعبہ کے پنجاب کے صدر جاوید علی نے شعرائے کرام کی صلاحیتوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ نقابت کی باگ ڈور راقمہ کے ہاتھ میں تھی۔ 
فروری کا مہینہ ہر سال ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، کالم نگاروں اور افسانہ نگاروں کو اپنے ایک عظیم محسن کی یاد دلاتا ہے جس نے ہمیشہ انسانیت سے محبت کی ہے اور وہ محبت تقسیم کرنے والے ’’ماہنامہ تخلیق ‘‘کے مدیر اعلیٰ اظہر جاوید نے اپنی دائمی جدائی کی گھڑی کا بھی 14 فروری کو ہی انتخاب کیا اور قدرت نے اس محبت کے پیکر کو دنیا سے ہمشہ کے لئے اپنے پاس بلوالیا اور یہ بلاوا جس کو بھی آتا ہے وہ کیا مجال کہ کوئی چون و چرا کرے ۔ اس لئے سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ سونان اظہر کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے والد گرامی کے دوستوں کو اکٹھا کرے اور اپنے والد گرامی کی باتیں اُن سے سنے ۔ سونان اظہر نے اپنے باپ کی وراثت کو سنبھالا ہوا ہے جس کے سنبھالنے پر وقت، سرمایہ صرف ہوتا ہے اس لحاظ سے سونان اظہر میرے نزدیک شاباش کا مستحق ہے ۔ اس نے اپنے کاروبار پر والد گرامی کے’’ ماہنامہ تخلیق‘‘ کو ہمیشہ غالب رکھا اور آج سونان اظہر کا نام بھی امریکہ ، کینیڈا، لندن، ہندوستان اور دوسرے کئی ملکوں میں ادبی حلقوں میں جانا جاتا ہے ۔ اس لئے سونان نے خسارے کا سودا نہیں کیا اس نے اپنا نام اتنا کمایا ہے کہ اب اس کی کیفیت و حالت یوں ہے کہ 
شہرت میرے پیچھے اور چرچا میرے آگے 
اظہر جاوید کی یاد میں فالکن کلب کے بالائی ہال میں منعقدہ تقریب کی نقابت و نظامت صوفیہ بیدار اور ڈاکٹر رفیق قیصر کے سپرد تھی اور انہوں نے بہت اچھی طرح سے اس منصب کو نبھایا۔ پروفیسرخواجہ زکریا کی صدارت میں جوق در جوق ملک کے نامور محقق، مصنف، شاعر، ادیب اور صحافی دیکھے گئے۔ اظہر جاوید ایوارڈ ممتاز صحافی اعزاز سید کو دیا گیا۔ سونان اظہر جاوید نے اپنے والد کے دوستوں کا بے پناہ احترام کرتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا خاص طور پر ڈاکٹر رفیق قیصر کی میزبانی تو سب کو یاد رہے گی ۔


ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کالم میں تحریر کردہ خیالات لکھاری کی ذاتی رائے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں