102

سیاست عجب کھیل

شہزاد حسین بھٹی
shahzad75@hotmail.com

سیاست ایک عبادت ہے۔ یہ ایک نعرہ ہے۔ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کا ایک انتخابی نعرہ ورنہ دیکھا جائے تو اس میں کسی بھی صورت حقیقت نہیں رہی۔ نہ ہی معاشرتی سچائیوں سے اس کا دور دور تک واسطہ رہا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں سیاست کو ایک گالی بنا دیا گیا ہے(جو سیاستدان ابھی بھی سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں، اور اس شعبے میں عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر آتے ہیں وہ آج بھی سیاستدانوں کی بھیڑ چال میں نمایاں شناخت رکھتے ہیں، اور عوام ان کی دل و جاں سے عزت بھی کرتے ہیں)۔ عمومی طور پہ یہ تاثر تقویت پاتا جا رہا ہے کہ سیاست مفادات کا ایک کھیل بن کے رہ گیا ہے جس میں عوام کی حیثیت ایک تماشائی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے۔ تماشائی بھی وہ جنہیں نعرے لکھ کے دیے جاتے ہیں، فقرے بتائے جاتے ہیں کہ اس کے سوا کچھ نہیں کہنا، فرامین سکھائے جاتے ہیں کہ اس سے باہر نکلنا آپ کے لیے شجر ممنوعہ جیسا ہے ۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام ہرگز اپنی سوچ کو بروئے کار لاتے ہیں عقل کے مطابق فیصلے نہ کر پائیں۔ اور بلا چوں چراں وہ مانیں جو ان کے ہر دل عزیز سیاستدان ان سے کہیں اور بس۔ 
سیاسی بلوغت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجے کہ جو اُردو درست تلفظ سے بول نہیں سکتے وہ ہمارے مستقبل کے حکمران بننے کے سپنے سجائے عوام کے جم غفیر سے موبائل مارکہ خطابات کر رہے ہیں اور ہمارے قلوب و اذہان کو قید کی سند دے رہے ہیں۔ جن کی اپنی جائیدادیں دنیا کے کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں، وہ ہم کو یہ سبق دیتے ہیں کہ بھیا آپ و طن سے محبت کیجیے، آپ ٹیکس سے ہم کو نوازیے کہ ہمارے اللے تللے پورے ہوتے رہیں۔ باقی ٹھہرے آپ معصوم اور بھولے عوام آپ کا کیا ہے آج مرے کل دوسرا دن ۔ اور عوام سیاستدانوں کے ہاتھ ہوا میں لہرا کے ان کی طرف اچھالی جانے والی ایک مسکراہٹ سے ہی ان پہ فدا ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ عقلی ، شعوری، فکری لحاظ سے ہم ایک جمود کا شکار ہیں۔ ایسا جمود جس نے ہماری سوچ کو سلب کر لیا ہے۔ ہمیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ یہ بندہ ہمارے حق میں ٹھیک نہیں ہے لیکن کیوں کہ ہمیں اس کے باپ ، اس کے دادا، اس کے پردادا، اس کے چچا، اس کے ماموں، اس کے بھائی سے پیار ہوتا ہے لہذا ہم پہ لازم ہے کہ ہم اس کی محبت کا راگ بھی الاپیں۔ اور اپنی غیر مشروط حمایت کا نہ صرف یقین دلائیں، بلکہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اپنی جان پہ بن آئے لیکن اس سیاستدان پہ حرف نہ آئے۔ 
پاکستان کے سیاسی معیارات کی بلوغت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ یہاں من پسند سیاستدانوں کی کرپشن کا دفاع کرنے میں بھی ہاتھا پائی ہو جاتی ہے۔ جس کے نزدیک اس کا سیاسی راہنما قائد محبوب ہے اس کے خلاف وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ اس کارکن کے سامنے ثبوتوں کا انبار لگا دیں، فائلوں کے بنڈل کے بنڈل اس کے سامنے ڈھیر کر دیں جن میں اس کے محبوب قائد کے خلاف حقیقی معنوں میں ثبوت موجود ہوں کہ کیسے اس نے اس وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا، کیسے اس نے عوام کا حق اپنے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں جمع کیا، کیسے اس نے عوامی فلاح کے منصوبوں کارخ اپنی زمینوں کی جانب موڑ دیا، کیسے کیسے اور کب کب اس محبوب قائد نے عوامی فلاح پہ خرچ ہونے والی رقم اپنی نام نہاد سیکیورٹی پہ خرچ ڈالی، اور کس کس منصوبے میں کتنا کتنا کمیشن حاصل کیا، اس سیاسی کارکن کی آنکھوں پہ محبت کی پٹی، اور عقل پہ عشق کا پردہ پڑا ہو گا کہ وہ ماننے کے بجائے الٹا آپ کا گریباں تھام لے گا اور تب تک نہیں چھوڑئے گا جب تک آپ اس کے کرپٹ قائد کو سچائی کا دیوتا نہیں کہہ دیتے۔ کیوں کہ وہ اپنے گھر میں سگے بھائی کے خلاف شاید آپ کی کہی ہوئی بات پہ من و عن یقین کر لے لیکن وہ آپ کے منہ سے اپنے قائد کے خلاف سچی بات بھی سننا گوارا نہیں کرئے گا۔ یہ ہمارے ہاں کہ سیاسی رویے ہیں۔ یہ ہمارے ہاں کی سیاسی روایات ہیں۔ جو ہمارے سیاستدانوں کو باز رکھنے میں ناکام ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے سیاستدان ابھی بھی ہاتھ کھینچنے کو تیار نہیں ہیں اور عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ 
یاد آیا بلاول کے ٹرین مارچ کے آج کل بڑے چرچے ہیں۔ جی ہیں، بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ کے، جو بھٹو بھی ہیں اور زرداری بھی۔ اور اندازہ لگائیے کہ جو لوگ یہ توقع کیے بیٹھے تھے کہ اب کم از کم عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ کیوں کہ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں سے ایک دفعہ نقصان اُٹھا لیا جائے وہاں دوبارہ رُخ کرتے ہوئے ہزار بار سوچنا چاہیے لیکن توقع لگانے والوں کو عقل ہے کہاں، وہ دماغ سے سوچتے ہی کہاں ہیں، وہ تو کسی کے بھائی، کسی کے باپ، کسی کے بیٹے کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے بیٹھے ہیں کہ وہ سامنے موجود شخص کو تو دیکھتے ہیں نہیں، اور خود بے وقوف بننے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض ہی نہیں کہ ان کا محبوب قائد تقریر کرتے ہوئے کوشش کرتا ہے کہ عوام سے دور ہٹ کے کھڑا ہو اور محافظ ایک ایسا حلقہ بنائے ہوئے ہوں جو عوام کو پاس بھی نہ پھٹکنے دیں، عوام تو بس نعرے لگائے جائیں گے، اپنی بے وقوفی پہ خود ہی بھنگڑے ڈالے جائیں گے۔ 


ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کالم میں تحریر کردہ خیالات لکھاری کی ذاتی رائے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں