46

عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتا مسلہ کشمیر

عمرانہ مشتاق
imranamushtaq786@gmail.com

پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور اُن کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ پاکستانیوں کے دل کی دھڑکنیں چل رہی ہیں۔ یہ معاملہ بڑا حساس اور انسانیت کی تذلیل کرنے والوں کو عالمی ضمیر کی عدالت میں سزا اور مظلوم کشمیریوں کو جزا دینے کا وقت آگیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے حریت پسندوں کو کشمیر کا ساتھ دینا چاہیے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو عالمی حوالے سے جو شہرت اور نیک نامی حاصل ہے اس کے تقاضے امسال بڑی شدت سے دنیا بھر میں محسوس کیے گئے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم کی قیادت میں کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس وقت بھارت میں بھی یہ آواز بڑی شدت اختیار کر گئی ہے کہ بھارت اپنی عسکری قوت کا استعمال مظلوم کشمیریوں پر روا نہ رکھے اور انسانیت کی پامالی کے لئے اس حد تک نہ جائے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا میں نفرت کا نشان بن جائے۔

یہ جذبات تو بھارتی مسلمانوں کے ہیں اور وہ بڑے محتاط انداز میں بھارتی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں مگر جو اصل بات ہے وہ یہ کہ بھارت کے بدتمیز اور ٹھنڈے چہرے پر عالمی ضمیرکا زناٹے دار تھپڑ لگنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف دنیا کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ 5 فروری کو ہر مکتبہ فکر نے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا اور ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

ملک بھر میں یہ ریلیاں کشمیری آزادی کی نشانیاں ہیں اور اس وقت کشمیری عوام کے احساسات اور جذبات کی شدت کو محسوس کیا جارہا ہے۔ ہمارا ہم دم و دمساز ہمسایہ ملک چین نے بھی کشمیریوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھائی ہے اور اس وقت چین پاکستان میں مختلف شعبوں میں تعاون کا عمل شروع کر چکا ہے۔ موجودہ حکومت کا عوام کے لئے صحت کے میدان میں کارنامہ بھی نوید مسرت سے کم نہیں ہے۔ صحت کارڈ ایک کروڑ عوام تک ابتدا میں غیر معمولی واقع ہے اور پاکستان کی تاریخ میں صحت اور تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ رقم صَرف کی جارہی ہے اور اصل میں یہی عوامی فلاح کا راستہ ہے جن پر چل کر حکومتیں اپنا وجود ناگزیر بنا لیتی ہیں۔

اس وقت اس عظیم کارنامے کو میاں نواز شریف بھی اپنا منصوبہ قرار دے رہے ہیں اور عمرانی حکومت اس پر اپنا لیبل لگا رہی ہے۔ میاں صاحب کو خوش ہونا چاہیے کہ اگر آپ نے یہ خیال پیش کیا تھا تو اس پر عمل بھی کیا ہوتا اگر اب یہ حکومت عمل پیرا ہے تو اس کو سراہنا چاہیے نہ کہ اظہار تاسف اور کفِ افسوس ملنا چاہیے۔ اس وقت پاکستان میں ہر علاج ممکن ہے۔ میاں صاحب کو بھی پاکستانی ہسپتالوں اور پاکستانی مسیحاؤں پر اعتماد کرنا چاہیے اور اپنے غیر ملکی اثاثے جو حسن و حسین کے نام پر ہیں وہ واپس پاکستان لانے کے لئے دل و جان سے پاکستان کی خدمت میں آگے بڑھنا آپ کے قد کو مزید قدآور بنا سکتا ہے اور آپ کی مکمل صحت یابی کی ضمانت کا بھی یہی جواز ہے۔

ہسپتالوں میں عام آدمی کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ نظر بینا کے لئے دیدۂ عبرت ہے جو سہولت میاں صاحب کو اس وقت جیل میں حاصل ہے وہ ایک غریب پاکستانی کی دسترس میں نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا شروع سے ہی یہ نظریہ رہا ہے کہ عام آدمی کی ضرورت اور سہولت کے اسباب حکومت خود تخلیق کرے اور اُن کے معیارِ زندگی بلند کرنے میں مواقع فراہم کرے۔ ہم لوگ بجلی، پانی، سوئی گیس کے بلوں کو روتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ جب خوشحالی آئے گی تو عوام کو یہ مہنگائی ارزانی محسوس ہوگی۔

اس وقت امیروں کے لئے مہنگائی اس لئے نہیں ہے کہ وہ خوشحال ہیں اور ہر چیز اُن کی دسترس میں ہے۔ عام آدمی کو امرا کی صفوں میں لانے کے لئے خوشحال بنانے کا عمران خان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہورہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایثار اور قربانی کے جذبات پیدا کرکے کچھ تکلیف برداشت کرلی جائے تو آگے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں کیونکہ مشکلیں جب مسلسل پڑ رہی ہوں تو اس کی عادت بھی آسانیاں لا سکتی ہے۔


ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کالم میں تحریر کردہ خیالات لکھاری کی ذاتی رائے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں