16

غیر ملکی سیاستدانوں کی جانب سے چینی صوبے سنکیانگ میں نسلی ہم آہنگی کی پزیرائی

(خصو صی رپورٹ):۔ دنیا بھر سے غیر ملکی سیاسی جماعتوں کے شرکاء نے گزشتہ دنوں چین کی دعوت پر چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ کے ایغور شہر کا دورہ کیا اور غیر ملکی مندوبین کچھ مغربی زرایع ابلاغ کے منفی پراپیگنڈے کے برعکس اس اقلیتی علاقے میں مختلف قومیتوں اور نسلوں کے مابین نسلی ہم آہینگی، معاشی ترقی اور مختلف نسلوں اور فرقوں کے مابین موجود ہم آہنگی اور باہمی احترام کے جذبات دیکھ کر حیران رہ گئے، دنیا بھر کے 30ممالک سے پچاس سے زائد سیاسی جماعتوں کے 200سے زائد مندوبین نے گزشتہ ماہ 27 فروری کو چینی حکومت کی جانب سے سنکیانگ کے دارلحکومت ارومچی میں منعقدہ ایک سیمینار بعنوان: چین کی ارومچی میں نسلی پالیسز کے حوالے سے تقریب منعقدہ کی۔ اور اس اجلاس سے قبل دنیا بھر سے مدعو شرکاء کو اس خطے کی معاشی، سماجی ڈیویلپمینٹ کو دیکھنے اور سمجھنے کے حوالے سے مختلف ٹوورز اور وزٹ بھی ستشکیل دیئے گئے تاکہ شرکاء اس اقلیتی علاقے میں چینی حکومت کی جانب سے معاشی اور سماجی خوشھالی کے حوالے سے جاری اقدامات کو بزاتِ خود جائزہ لے سکیں۔ شرکاء میں شامل ترکی کی پیٹری آٹک پارٹی کے چیئرمین سڈوگو پیرینیک نے کہا کہ انکا بطور مبصر سنکیانگ کا یہ چوتھا دورہ ہے اور ہر وزٹ کے موقع پر انہوں نے سنکیانگ کو پہلے سے بہتر ، مستحکم اور خوشحال پایا ہے، اسی طرح مصری پارلیمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری السید محمود الشریف نے سنکیانگ کے دارحکومت ارومچی میں قائم رایویل ٹیکنالوجی کے دورے پر فیکٹری کے ایگزیکٹوز کو دعوت دی کہ وہ ترکی میں اسی طرح کی اعلی ٹیکنالوجی کی حامل فیکٹری لگائیں، انہوں نے کہا کہ جو بنیادی وسائل اس فیکٹری کو چاہیئے یہ بہتات کی طرح مصر میں موجود ہیں اور اعلی کوالٹی پولیمر مصر میں ہونے کیوجہ سے اس طرح کی فیکٹریز مصر میں بہت کامیابی سے ڈیولپ ہو سکتی ہے جس سے نہ صرف مقامی سطع پر روزگار کے مواقع پیدا ہونگے بلکہ مصری معیشت بھی مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہوگی۔ مصری ڈپٹی سیکرٹری پارلیمینٹ السید الشریف نے وزیٹینگ کارڈ پر اپنا پرسنل نمبر لکھا اور ٹیکنالوجی فیکٹری کے چیف ایگزیکٹو کو دیتے ہوئے کہا کہ وہ مصر میں ایسی ہی فیکٹری لگانے کے لیے انکے ساتھ رابطہ کریں اور بار بار ان سے رابطہ کی درخواست کی۔ سنکیانگ اور ارومچی کے حوالے سے جاری اعدادوشمار کے مطابق سنکیانگ کے شہری اور دہیی علاقوں کے لوگوں کی فی کس آمدنی میں2018 میں بالترتیب 6.5 فیصد اور 8.5فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اردن سے چینی امور کے ماہرمروان سدھا نے ایک عربی قول کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت سب سے شفاف آئینہ ہوتا ہے، انہوں نے مغربی میڈیا کی جانب سے چین کی نسلی پالیسز اور مغربی میڈیا کے منفی پرا پیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین سنکیانگ اور ارومچی میں جو کچھ اقلیتی اور نسلی گروپس کے ساتھ ملک کر انکی فلاح اور استحکام کے لیے کر رہا ہے دنیا میں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ میں سنکیانگ اور ارومچی میں لوگوں کو اپنے روایتی ملبوسات اور مذہبی رسومِ رواج کو آزادی سے ادا کرتے دیکھا ہے، میں نے مقامی اقلیتی لوگوں کو اپنی مقامی اور روایتی زبانوں میں باتیں کرتے اور زندگی سے لطف اٹھاتے مسکراتے دیکھا ہے جو خوشی ارومچی اور گر دونواح کے لوگوں پر تھی ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کا پراپگنڈہ مغربی میڈیا کرتا ہے۔ تمام اقلیتی اور نسلی گروپس مکمل ہم آہنگی اور باہمی احترام کیساتھ سنکیانگ میں رہائش پزیر ہیں۔ اور یہ ہی وہ امر ہے جس کے باعث سنکیانگ اور چین اپنے معاشی اہداف اور مجموعی اقتسادی ڈیویلپمینٹ کو ڈیڑھ ارب کی آبادی کیساتھ لیکر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے، اسی حوالے سے پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اعزاز آصف نے سنکیانگ کے دورے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنکاینگ اور دیگر اقلیتی علاقوں کی اقلیتی کمیونیٹز چین کی حکومت کی جانب سے جاری سماجی بہبود کی پالیسز سے بھر پور انداز میں استعفادہ کر رہی ہیں۔ اور اقلیتی گروپس کو کسی بھی سطع پر کسی قسم کے تعصب اور غیر امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہے۔ اور اکثریت کیساتھ ساتھ اقلیتی اور نسلی اقلیتوں کو ساتھ ملا کر چلایا جا رہا ہے۔ چین میں ہر جگہ پر نسلی تنوع کا احترام یقینی بنایا جاتا ہے۔ اور ہر لھاظ سے اقلیتی اور نسلی گروپس کی روایات کا احترام یقینی بنایا جاتا ہے، اور باہمی احترام چین کی نسلی اور اقلیتی گروپس کے لیے جاری پالیسز کی بنیادی اور کلیدی وجہ ہے۔ اعزاز آصف نے اپنی تجربات کے حوالے سے بتایا کہ ایغور میں انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنی روایتی زبانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید ہی کرتے دیکھا ہے اور انہیں کسی بھی جگہ کوئی امتیازی سلوک کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور ہم آہنگی بہترین شکل میں دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ انٹر نیشنل گرانڈ بازار میں انہیں مختلف مقامی اقلیتی گروپس کی جانب سے اسٹیج پرفارمنس دیکھنے کا موقع ملا، اور جس چیز کو دیکھ کر انہیں انتہائی خوشی حاصل ہوئی وہ یہ ہے کہ چینی لوگ نسلی اتحاد کو اپنی جان سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ اور چینی لوگ مقامی اقلیتی اور نسلی گروپس کے ساتھ ایک اناز میں دانوں کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے رہتے ہیں۔ اسی طرح سے کیمونسٹ پارٹی آف رشین فیڈریشن کے فرسٹ سیکرٹری برائے سمارا ابلاسٹ ریجنل کمیٹی الیکسی لیکسن نے ایک استعارے کی مدد سے کہا کہ انہیں ایک کہانی یاد آگئی جو انہوں نے ایک مڈل اسکول میں یاد کی تھی کہ کیسے ایک باپ اپنے بیٹوں کو کہتا ہے کہ وہ جھاڑو کے گھٹے کو توڑنے کی کوشش کریں لیکن اس کے بیٹے اس جھاڑو کے گھٹے کو توڑنے میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو تے، لیکن جب اس جھاڑو کے گھٹے کو کھول کر انکا والد اسے توڑنے کیلئے کہتا ہے تو وہ سب لڑکے با آسانی اسے توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور یہ ہی وہ بنیادی امر ہے جو چائینہ آج سیکھ چکا ہے کہ ہم اکھٹے رہ کر ہی مضبوط اور پائیدار رہ سکتے ہیں۔۔۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں