21

چین کے انٹارٹیکا تحقیقاتی اسٹیشن کے قیام کا30سالہ جشن

(خصوصی رپورٹ):۔ چین کے براعظم انٹارٹیکا میں قائم تحقیقاتی اسٹیشن ژونگشین ریسرچ بیس کے قیام کے تیس سال مکمل ہونے پر گزشتہ ماہ 26فروری کو ریسرچ سینٹر کے 30سال مکمل ہونے پر بھر پور جشن کا اہتمام کیا گیا، واضح رہے کہ چین نے تیس سال قبل براعظم انٹارٹیکا میں مختلف عوامل کی تلاش، ماحولیاتی تحفظ اورممکنہ صلاحیتوں کے حوالے سے تحقیقاتی مشن کا آغاز کیا تھا اور اس ریسرچ سینٹر کے قیام کے حوالے سے تیس سال مکمل ہونے پرگزشتہ ماہ ژونگشن ریسرچ سینٹر پر بھر پور جشن کا اہتمام کیا گیا، اس طرح سے براعظم انٹارٹیکا کے برفانی جزیرے پر تحقیقاتی سینٹر گزشتہ تیس سال کے دوران ایک اہم ترین ریسرچ اسٹیشن کی حیثیت اختیار حاصل کر چکا ہے جو مختلف تحقیقاتی سامان اور رسد کی منتقلی اور فراہمی کے حوالے سے بالخصوص اس برفانی براعظم پر زمینی مہمات کے حوالے سے ایک ٹرانزٹ مرکز کی سی اہمیت حاصل کر چکا ہے، اس کیساتھ ساتھ یہ تحقیقاتی اسٹیشن فکسڈ۔ونگ ہوائی جہازوں کیلئے لاجسٹیک خدمات بھی فراہم کرنے کے حوالے سے اہم ترین مرکز ہے، براعظم انٹارٹیکا کے برفانی علاقے میں ژونگشن ریسرچ اسٹیشن چین کا دوسرا تحقیقاتی ریسرچ بیس ہے جسے عظیم چینی محبِ وطن سنِ یاتسین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، چین کا شونگشن تحقیقاتی ریسرچ اسٹیشن اس حوالے سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے قریب ہی ایک ایک روسی تحقیقاتی ریسرچ اسٹیشن بھی قائم کیا گیا ہے، چین کا ژونگشن میں قائم تحقیقاتی ریسرچ اسٹیشن 26فروری 1989میں شروع کیا گیا اور گزشتہ تیس سالوں کے دوران سنیاتسن ریسرچ اسیٹیشن کو مختلف مراحل میں سائنسی تحقیقات، لاجسٹک سروسز اور تحقیقاتی صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے مختلف ادوار میں اسکے توسیع منصوبوں پر کام جاری رکھا گیا ہے، ژونگشن تحقیقاتی ریسرچ اسٹیشن جو تیس سال قبل کنٹینرز میں مختلف سامان کے ساتھ شروع کیا گیا تھا آج اسٹیل کے توسیعانہ ڈھانچوں میں منتقل ہو چکے ہیں جس کی دیواریں فوم بورڈ انسولیشن سے آویزاں کی گئی ہیں۔ انٹارٹیکا میں قائم یہ تحقیقاتی سروس اسٹیشن آج ایک جدید سائنسی مرکز کی حیثیت حاصل کر چکا ہے، اس تحقیقاتی اسٹیشن کو جدید آلات اور ڈیوائسز سے مزین کیا گیا ہے اور اس تحقیقاتی سینٹر کی لیبارٹری مختلف سائنسی مہمات اوراس علاقے سے اکھٹے کیئے گئے مختلف سیمپلز اور مواد کی ابتداعی تجزئیے اور ابتداعی سیمپلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، چین کی جانب سے براعظم انٹارٹیکا میں کن لنِ اور تائی شنِ کے قیام کے بعد دو مزید ریسرچ اسٹیشنز بھی قائم کیئے گے ہیں جن میں اسنو ایگل601بھی شامل ہے جو قطبی علاقوں میں فکسڈ ونگ ائیر کرافٹس کی فلائیٹ کے حوالے سے سامان کی ترسیل کے لیے قائم کیا گیا ہے اس طرح سے ژونگشن اسٹیشن کو فکسڈ ونگ ائیر کرافٹس کے حوالے سے لاجسٹکس سپورٹ فراہم کرنے کے حوالے سے توسیع دی گئی ہے اور آج یہ بیس لاجسٹیکل ٹرانزٹ مرکز کی حیثیت سے کام کر رہی ہے، اور یہ مرکز چین کی جانب سے اس برفانی سر زمین پر تحقیقات کے حوالے سے ایک انتہائی کلیدی اور فعال کردار ادا کر رہا ہے، یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ چین گزشتہ سالوں میں تحقیق اور ریسرچ کے حوالے سے براعظم انٹارٹیکا میں چار سریسرچ اسٹیشنز قائم کر چکا ہے، جن میں چنگشنگ اور ژونگشن اولین ریسرچ اسٹیشنز میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کن لن اور تائیشن براعظم انتارٹیکا میں موسمِ سرما میں بطور تحقیقی ریسرچ اسٹیشنز کے طور پر کام کرتے ہیں، چین اس برفانی سر زمین پر اپنا پانچواں ریسرچ اسٹیشن خلیج ٹیرا نوا میں بحیرہ راس میں ایک نا قابلِ یقنین جزیرے پر قائم کر رہا ہے، جہاں جلد تحقیق کا کام شروع ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں