39

شوکے کی کہانی

چاچا رحمت جب سعودیہ کمانے کے لئے گئے تو ان کے گھر کے نصیب بدل گئے۔اپنے ابا کی آبائی زمین کی تقسیم پر ان کی اپنے اکلوتے بھائی سے دشمنی چل نکلی تھی۔جب وہ سعودیہ گئے اور اچھی کمائی گھر آنے لگی توان کے دن پھرنے لگے اس کمائی کا ایسا مزہ آیا کہ کچے مکان سے پکا مکان اور پھر ایک وسیع حویلی بنا لی گلی کے سامنے ایک بڑی سی بیٹھک بنا لی اورر اس پر سنگِ مر مر کا ایسا خوبصورت کام کروایا کہ گلی سے گزرنے والا اس کی طرز تعمیر میں محو ہو جاتا تھا۔چا چا رحمت کی دو بڑی بیٹیاں تھیں جن کی انہوں نے شادیاں کر دی تھیں جبکہ ایک چھوٹا اور لاڈلا بیٹا شوکت عرف شوکا تھاجو والد کی بھیجی گئی رقوم کی وجہ سے زندگی کے مزے لوٹ رہا تھا۔دوسری طرف ساتھ ھی چاچا کی چھوٹے بھائی شجاعت کا گھر تھاجو اپنے حصے میں آ انے والی زمین پر کاشتکاری کر کے اپنے چار بیٹوں کا پیٹ پال رہے تھے۔
انہوں نے اپنے بچوں کو پرانے کپڑے پہنائے مگر گاؤں میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے شہر پڑھنے کے لئے بھیجا ۔شوکا جب انہیں تہواروں پر بھی پرانا لباس پہنے دیکھتا تو آوازیں کستا۔وہ ان کی ایک کمرے کی بیٹھک کو کباڑی کی دکان کہ کر بلاتا تھا چاچا شجاعت اس موقع پر صبر کی تلقین کرتے تھے۔کیونکہ کہ وہ اس کا جواب کسی اور طریقے سے دینا چاہتے تھے۔
اقت گزرتا گیا ان کے چار بیٹے تھے جن میں سے دو سکول ٹیچر بن گئے ایک کو میڈیل کالج میں ایڈمشن مل گیا تو سب سے چھوٹا لا کالج جانے لگا۔گاؤن کے دیگر افراد سے یہ لوگ بہتر مقام حاصل کر چکے تھے،اب سعودیہ میں اچھے خاصے بیمار رہنے لگے تھے انہیں گھر کی کمی بھی شدت سے محسوس ہونے لگی تھی۔آخر وہ سب کچھ سمیٹ کر گاؤں واپس آ گئے،یہاں بیٹے کی نااہلی انہیں اندر سے کھانے لگی تھی،شوکا جی بھر کر کھاتا پھر گھوڑے بیچ کر سوتا یا اپنی بیٹھک کے تھلے پر گاؤ تکیہ لگا[صبح کر یار بیلیوں کی محفل لگاتا،ایک روز چاچا شجاعت کے بیٹے کی شادی تھی توشوکا صبح سویرے ہی بیٹھک پر جا کر بیٹھ گیااور چاچا شجاعت کے گھر کی طرف جانے والے افراد پر اپنی اعلی طرزِ رہائیش کی دھاک بٹھانے لگا عصر کے وقت اس کے ابا وہاں آئے تو شوکا اپنے بالاں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا ’’ ابا چاچا شجاعت بھی بڑا کم عقل بندہ ہے بیٹھک میں مہمان پورے نہیں آرہے توانہیں گلی میں کرسیاں لگا کر بٹھا دیا ہے شادی سے پہلے کم سے کم ایک اچھا مہمان خانہ تو بنوا لیتے ‘‘ شوکا قہقہ لگا کر خاموش ہوا تو اس کے ابا کو دل کی بھڑکاس نکالنے کا موقع مل گیا۔’’شوکے میرے بھائی نے بہت اچھا کیا کہ اچھا مہمان خانہ نہیں بنوایا مگر اپنی تھوڑی کمائی سے بھی اپنے بچوں کو بندے کے پتر بنا دیا اور میں بیرونِ ملک تیرے لئے پیسہ اکٹھا کرتا رہا دن رات محنت کی مگر اس سے تجھے ایک کامیاب انسان نہ بنا سکا کیونکہ میری کمائی نے جس مقام پر خرچ ہونا تھا اس پر استعمال نہیں ہوئی میرا شوکا گاؤں والوں کے لئے شوکا ہی رہا ملک شوکت نہ بن سکا مگر میرے بھائی کے سلو محمد سلیم اور کالو محمد کلیم بن گئے میں نے تجھے روپیہ پیسا،اونچی بیٹھک اور گاؤتکئے تو فراہم کر دئیے مگرتجھے تیرا مکمل نام اور پائیدار مستقبل نہ دے سکا ‘‘چاچا یہ کہہ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم صاحب نے بھی گزشتہ حکمرانوں کی طرح مختلف ممالک سے قرض لیا ہے قرض حاصل کرنا کوئی بڑی بات ہے نہ ہی کوئی بری بات ہے مگر اس کا درست جگہ استعمال سے دھرے فوائد حاصل کرنا ہی مدبر حکمرانوں کا کردار ہوتا ہے جس نظام کو قرض کا سہارہ دے کر بھی غلط پلاننگ کیوجہ سے استحکام حاصل نہ ہوتو وہ چاچا رحمت کے شوکے کی طرح ہوتا ہے جو قوم کی رقوم تو ڈکار جاتا ہے مگر اپنے وجود سے کسی کو سایہ اور سہارہ فراہم نہیں کر سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں