39

تیسری جنس

جب وہ پیدا ہوا تو عجیب تھا نہ لڑکا تھا
نہ لڑکی وہ ایک تیسری جنس تھی جسے ہمارےمعاشرے میں غالبن کھسرایا حجڑا کہا جاتا ہے باپ سنتے ہی سکتے میں آگیا- ربا یہ کیا دے دیا-ماں نے اللہ کا شکر کیا جو اس زات نے عطا کیا خوشی خوشی قبول کیا-سینے سے لگایا -آخر وہ ماں تھی نو ماہ اپنی شکم میں پلنے والی جان پر کیسے نا شکری کرتی- ماں کا دودھ صرف بچے یا بچیاں ہی نہیں پیتے بلکہ تیسری جنس بھی پیتی ہے- باپ نے مطالبہ کیا کہ آؤ اسے انکے خاص گروہ کے حوالے کر آتے ہیں خاندان اور گلی محلے کے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں- لیکن وہ تو ماں تھی اسکی مامتا کو بھلے کوئ ہرا سکتا ہےباپ چپ ہو گیاوقت گزرتا گیا- اللہ نے اک بیٹے اور بیٹی سے نوازا اسکی قدر اور گر گئ باپ کی نظر میں جیسے وہ تو اسکی اولاد ہی نہ ہو – – لیکن ماں نے اسکو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا جس سے اکثر باپ کو گلا رہتا- باپ کی بد سلوکی اسکے ساتھ بڑھتی گئ جب وہ گیارہ برس کا ہو گیا تو اک دن باپ نے اسے گھر سے نکالنے کا پکا ارادہ کر لیا اور آخر کار اسے گھر سے چلے جانے کیلئے کہہ ڈالا لیکن وہ نا آشنا تھا اس بات سے کہ اس نے اک ماں ی مامتا کو للکارہ ہے ماں نے اپنے اور اپنے لاڈلے کا سامان باندھا اور شوہر سے بول دیا کہ اس گھر سے یہ اکیلا نہیں اسکی ماں بھی ساتھ جائے گی پھر میں جانو یہ جانے اور اس کا وہ خدا جانے جس نے اسے سانس دی- زندگی دی وہ خدا جسکی کوئ تخلیق بے معنی بے مقصد نہیں وہ خدا جو جو دن اور رات بنانے پر قادر ہے- باپ اک بار پھر سے چپ ہو گیا ہمت ہار گیا بھلا دنیا کی کوئ طاقت ماں کی مامتا کو ہرا سکتی ہے خیر وقت گزرتا گیا باپ کے لہجے کی تلخی مزید بڑھتی گئ ماں کو کینسر ہو گیا اور ماں کے لاڈلے کے برے دن آگئے باپ اپنے دوسرے دونوں بچوں کو لاڈلے سے دور رکھتا تھا اور لاڈلا اور اسکے بہن بھائ محسوس کرنے لگے تھے کہہ یہ ہم سے الگ ہے ماں سارا سارا دن بے حوش رہنے لگی اور وہ دو دو دن بھوکا نہ کوئ اسکو کھانا دینے والا تھا نہ کوئ پوچھنے والا باپ کے خوف سے وہ نہ کچھ مانگتا اور نہ کچھ کہتا اندر ہی انرر گھٹتا رہتا اور یہ سوچتا کہ آخر مجھ میں ایسا کیا ہے جو میرا باپ مجھ سے نفرت کرتا ہے محلے میں نکلتا تو بچے بڑے سب کھسرا کھسرا کہہ کر پکارتے اور پھر اک دن اس نے اپنی ماں سے ہی سوال کر ڈالا ماں کھسرا کیا ہوتا ہے کون ہوتا ہے مجھے سب یہ کیوں کہتے ہیں ماں کی انکھ میں آنسو بھر آئے اک پل کیلئے لاجواب ہو گئ – اور لاڈلے کی بات کو ٹال مٹول کر دیا- ماں کی بیماری دن بہ دن بڑھتی گئ اور اک دن انتقال کرگئ باپ نے اگلے ہی پل لاڈلے کو ہاتھ سے پکڑا اور گھر سے نکال دیا اندھیری رات میں روتا ہوئے یہاں وہاں منڈراتے ہوئے وہ خود ہی سے سوال کر رہا تھا آخر میرا قصور کیا ہے کیوں میرا باپ مجھ سے اس قدر نفرت کرتا ہے نہ وقت دیکھا نہ حالات اور مجھے گھر سے نکال دیا کہاں جاؤں میں اس سرد رات میں کون میرا اپنا ہے اس دنیا میں اک ماں ہی تو تھی وہ بھی خدا نے لے لی – سردی میں پوری رات بھٹکنے کے بعد جب نڈھال ہو گیا تو اک فٹ پاتھ پر ہی سو گیا ساری رات شددید ٹھنڈ میں لیٹا رہا ماں کے آغوش میں نرم بستر پر سونے والا سرد رات میں آکیلے زمین پر سو رہا تھا صبح اٹھا تو بھوک سے حالت خراب ہو رہی تھی کوئ آکر پوچھنے والا نہ تھا اک جگادرخت کے کنارے بیٹھا روتا رہا رات پھر آنے کو آگئ بھوکا پںاسا تڑپتا پھر سے سو گیا آدھی رات موسم بدل گیا ہر طرف لال بادل چھا گئے- بادل گرجنے لگے جھنوں نے لاڈلے کو ڈرا کر رکھ دیا اور کچھ دیر میں ہی شدید بارش شروع ہوگئ آخر کار آسمان بھی رو پڑا لاڈلے کی اس حالت پر اور اس کے باپ کی بے حسی پر پوری رات سردی میں تڑپتا رہا روتا رہا اپنی ماں کو آوازیں لگاتا رہا نہ کوئ سننے والا تھا نہ کوئ کچھ کہنے والا پوری رات شدید بارش کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر گیا – نہ سردی باپ کی شفقت کر گرما سکی نہ باپ کی غیرت کو جگا سکی-باپ نے دنیاوی باتوں کےچکر میں اپنے گوشہ دل کو کھو دیا- نہ جانے دنیا کیوں نہیں جینے دیتی اس مخلوق کو یہ بھی انسان ہیں ہمااری طرح اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ہیں پھر کیوں اتنا الگ سمجھا جاتا ہےکیا صرف انکا یہ قصور ہے کہ انکو ایسا کیوں پیدا کیا گیا؟ اس زات کی پیدا کی ہوئ کوئ چیز بے فضول نہیں ہوتی وہ تو پتھر میں بھی غزا دیتا ہے کیڑے کو- افسوس ہم اب بھی اس جاہل معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اک باپ معاشرے کی باتوں کی وجہ سے اپنے جگر کے ٹکرے کو اپنانے سے انکار کر دیتا ہے جہاں ماں باپ کے نزدیک اولاد کی تربیت صرف بچوں کو انگریزی زبان سیکھا دینے تک محدود ہے جہاں جب دروازے پر کوئ خواجہ سرا آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ حجڑا یا کھسرا آیا ہے جہاں بچوں کو ان سے ڈرا دیا جاتا ہے کبھی انکو جھڑک کر برا بھلا کہہ کر بھیج دیا جاتااور انکے دل میں یہ بات بیٹھا دی جاتی ہے کہ یہ اک الگ ہی مخلوق ہیں اور اپنے ایسے رویے سے یہ سیکھا دیا جاتا ہے کہ انکی کوئ عزت نہیں جہاں کبھی سگنل پر تو کبھی سڑک پر چلتے ہوئے مرد حضرات ان پر طرح طرح کے جملے کس کر لطف اندوز ہوتے دکھائ دے رہے ہوتے ہیں جہاں کہیں ان پر ظلم ڈھائے جا رہے ہوتے ہیں تو کہیں انکو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے- ہم اک ایسے ہی معاشرے میں جی رہےہیں جسکی حقیقت بہت تلخ ہے جہاں کسی خواجہ سرا پر ہماری نظر پڑ تو جائے ہم بار بار مڑ مڑ کر اسکو دیکھتے اور ہنستے ہیں اپنے بچوں کو شروع سے ہی انسانیت کی قدر کرنا سیکھائیے تا کہ کل وہ راہ چلتے کسی خواجہ سرا کا مزاق نہ ارائیں نہ ہی انکے ساتھ برا روایہ اختیار کریں- انکو انسانیت کی قدر اور انسانیت سے محبت کرنا سیکھائیے-یہ تو وہ قابل رحم طبقہ ہے جو اس سب زلت کے باوجود بھی دوسروں کی خوشیوں میں شامل رہتے ہیں اور ہر وقت ان کی لبوں پر دوسروں کیلیئے دعائیں رہتی ہیں- یہ وہ بد نصیب طبقہ ہے جو لاوارث ہی دنیا میں آتے ہیں اور لاوارث ہی چلے جاتے ہیں نہ انکے آنے کی خوشی ہوتی ہے نہ ان کے مرنے کا غم -جس کا دل چاہا چھیڑ دیا جس کا دل چاہا ہوس کا نشانہ بنا لیا جس کا دل چاہا مار دیا آخر جائیں تو جائیں کہاں-ا نکا انداز الگ ہی سہی مگر ہیں تو انسان ہی- پڑھنے کا حق ہے نہ نوکری کا – گداگیری اور جسم فروشی ہی انکا نصیب ٹھہرا – نہ کوئ نام ہے نہ کوئ آسرا- ڈولی, ببلی, پینکی تک ہی ہے صرف انکی پہچان-

زنیرا رفی (نمل یونیورسٹی اسلام آباد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں